آبنائے ہرمز میں کشیدگی، برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی
ویب ڈیسک : برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے اور ایسا اکتوبر سنہ 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔اس وقت تیل کی قیمتیں 116 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے نیچے آ رہی تھیں جو روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے نتیجے میں بڑھی تھیں۔فی الحال کسی کو معلوم نہیں کہ اس بار قیمتیں کس حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے جمعے کے روز اپنی ایک پیش گوئی سے تیل کی منڈیوں میں ا±س وقت تشویش پیدا کر دی جب انھوں نے یہ کہا کہ اگر صورتحال طویل عرصے تک ایسی ہی رہی اور تیل کی ترسیل بندش کا شکار رہی تو قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے جو ان کے بقول ’دنیا کی معیشتوں کو تباہ کر سکتی ہے۔‘دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی پیداوار خلیجی ریاستوں سے آتی ہے جبکہ دنیا کی 17 فیصد گیس بھی اسی خطے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً 300 تیل بردار جہاز خطے میں رکے ہوئے ہیں کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کسی بھی کشتی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اب اس ساری صورتحال کا دارومدار امریکہ پر ہے کہ وہ کس طرح اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے وہ امریکی بحریہ کی جانب سے حفاظت فراہم کرنے ہو یا پھر انشورنس پالیسیوں کی صورت میں۔اگر قیمتوں میں اضافہ مختصر مدت کے لیے ہو تو شاید اسے برداشت کرنا نسبتاً آسان ہو، لیکن اگر صورتحال ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہی تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ اس سے خوراک، گھریلو اشیا، ایندھن، توانائی اور حتیٰ کہ رہائشی قرضوں مارگیج کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔


