میاں نواز شریف کے نام کھلا خط
محترم میاں نواز شریف صاحب
السلام علیکم
ا±مید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
ایک زمانہ تھا جب آپ کا نعرہ ووٹ کو عزت دو پورے ملک میں گونجتا تھا سیاسی کارکن اس بیانیے کو جمہوریت کی امید سمجھ کر بڑے فخر سے دہراتے تھے۔
مگر نہ جانے وقت کو کیا ہوا کہ حالات بدل گئے بیانیہ بھی کہیں گم ہو گیا اور آپ کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آ گئی۔
آپ کے جگری دوست اختر مینگل بھی عوام کے ووٹوں سے کامیاب ہو کر ایوان تک پہنچ گئے تھے۔
لیکن نجانے آپ کی حکومت نے انہیں ایسا کیا شکوہ دیا کہ انہوں نے اپنے ہی حلقے کے ووٹوں کو عزت دینے کے بجائے استعفیٰ کی صورت میں واپس عوام کے منہ پر دے مارا۔
وہ مستعفی ہو کر بیٹھ گئے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں منانے کی کوئی خاص کوشش بھی نظر نہ آئی۔ طویل انتظار کے بعد بالآخر ان کا استعفیٰ منظور ہو گیا۔
الیکشن کمیشن نے خالی نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان کیا۔ باقی سیاسی لوگوں کی طرح میں نے بھی اس انتخاب میں حصہ لینے کی کوشش کی۔
مگر بدقسمتی سے آپ کی جماعت کی جمہوری حکومت میں مجھے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت ہی نہ مل سکی۔
میں نے اِسے بھی جمہوریت کا نیا حسن سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی۔
اب آپ سے ایک گزارش ہے کہ آئندہ آنے والی اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں بلوچستان کے لیے ایک خصوصی سلیکشن کمیٹی کی منظوری بھی آئین کا حصہ بنوا دیں۔
تاکہ بلوچستان میں انتخابات کروانے کے لیے وفاق کو بار بار زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
یوں وفاق کو بلوچستان سے نمائندے منتخب کرنے میں بھی آسانی ہو جائے گی۔
اور ہم جیسے سیاسی لوگوں کی غلط فہمیاں بھی دور ہو جائیں گی۔
ساتھ ہی وفاق کی بدنامی سے بھی بچاو¿ ممکن ہو جائے گا۔
اللہ پاک آپ کی جمہوری بادشاہت کو پاکستان کے بے شعور عوام پر قائم و دائم رکھے۔
وسلام میر اسرار اللہ زہری
اسلام آباد پائندہ آباد


