سیاسی کارکنان کی سوچ کو بزور طاقت تبدیل نہیں کیا جا سکتا، مالک بلوچ

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطے میں جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات نہ صرف خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عام عوام پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور کشیدگی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے انسانی المیے جنم لیتے ہیں، لہٰذا تمام فریقین کو چاہیے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو اختیار کریں۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور عالمی نظام یک قطبی سے کثیر القطبی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک اب عالمی معیشت اور مارکیٹ میں بطور شراکت دار ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شناخت کی بنیاد پر جدوجہد پوری دنیا میں شدت اختیار کر رہی ہے اور کوئی بھی قوم اپنی شناخت سے دستبردار نہیں ہو سکتی، اس لیے امن، مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں، جہاں عوام کو درپیش مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ راستے سفر کے قابل نہیں رہے اور عوام اپنے گھروں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے نیشنل پارٹی کے کارکنان کو حراساں کیا جا رہا ہے۔ پنجگور، تربت، آواران، جھاو¿ اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں پارٹی کارکنان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنان کی سوچ کو بزور طاقت تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نیشنل پارٹی کسی کے دباو¿ یا خواہش پر اپنے سیاسی فلسفے سے دستبردار نہیں ہوگی۔ہمیں اپنے شہدائ پر فخر ہے اور ان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سنجیدہ سیاسی مکالمے اور جمہوری عمل میں مضمر ہے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ انتہائی اہم اور فوری توجہ کا متقاضی ہے، جس کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوشکی اور زہری کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے حوالے سے عوامی رجحانات انتہائی مثبت اور حوصلہ افزائ ہیں۔ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات میں عوام نے نیشنل پارٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جو پارٹی کی عوامی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ایک مضبوط اور منظم بنیادوں پر قائم تنظیمی جماعت ہے،اس لیے جہاں کہیں بھی تنظیمی کمزوری موجود ہے۔ان کو فوری طور پر دور کر کے تنظیم کو مزید فعال بنایا جائے گا۔اجلاس میں تنظیمی امور اور ادارہ جاتی ایجنڈے زیر بحث رہے۔اجلاس سے تمام وحدتوں نے اپنی رپورٹ پیش کی۔اجلاس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی وحدت صدور اسلم بلوچ ایوب ملک حاجی فدا حسین دشتی سعد بلوچ رکن بلوچستان اسمبلی چیرمین خیر جان بلوچ چیرمین محراب بلوچ یاسمین لہڑی ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ میر عبد الخالق بلوچ مجید ساجدی حاجی عطاءمحمد بنگلزئی عبد الصمد بلوچ ڈاکٹر رمضان ہزارہ واجہ اشرف حسین ولید بزنجو سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں