مدارس کیخلاف حکومت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگی، فیصلہ واپس نہ لیا تو کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے، جے یو آئی پنجگور
پنجگور (نمائندہ انتخاب) حکومت کی جانب سے مدارس کیخلاف کاروائی کے رد عمل میں صوبائی قیادت کی کال پر جمعیت علماءاسلام پنجگور کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ۔ ریلی مدرسہ مسجد نورالٰہی بازار سے روانہ ہوئی جس کی قیادت جمعیت علماءاسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحلیم، خطیب مکران مولانا علی احمد، حاجی عطاءاللہ بلوچ، مولانا شیخ عبدالحمید مدنی، مولانا سعد اللہ، مولانا حافظ عبداللہ، حافظ رشید احمد، تحصیل امیر مولانا مقبول احمد، عادل ارباب اور دیگر رہنماﺅں نے کیا۔ ریلی میں جمعیت علماءاسلام کے کارکنوں، علماءکرام عمائدین شہر سمیت ہزاروں افراد شامل ہوئے۔ شرکاءنے مدارس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ریلی بازار کی مختلف گلیوں سے ہوتی ہوئی بسم اللہ چوک پہنچی۔ مظاہرے سے جمعیت علماءاسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ، جنرل سیکرٹری مولانا عبدالحلیم، خطیب مکران مولانا علی، حاجی عطاءاللہ بلوچ، مولانا عبدالحمید مدنی، تحصیل امیر مولانا مقبول احمد، حافظ امین جان، مولانا الیاس ولی ساسولی، مولانا سعد اللہ، عادل ارباب اور دیگر نے خطاب کیا۔ حافظ محمد اعظم بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مدارس کے خلاف حکومت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگی آخری سانس تک مدارس کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بتادینا چاہتے ہیں کہ مدارس کو انگریز ختم نہیں کرسکے ماضی کے ظالم اور جابر حکمران ختم نہیں کرسکے آپ کون ہوتے ہیں مدارس کو سیل کرنے والے، مدارس اور طلباءکا تحفظ اپنے خون سے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہ حکمران ماضی دیکھیں 1919ءکو دارالعلوم دیوبند انڈیا کی تاسیس سے لیکر آج تک ہمارے ہزاروں علماءکرام اور طلباءنے جام شہادت نوش کیا لیکن مساجد اور مدارس کو آنچ آنے نہیں دی ہم بزدل نہیں بلکہ مجاہد اور اسلام کے سپاہی ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی پشت پر کھڑے ہونے والے لاکھوں کارکن قائد جمعیت کے حکم پر جان دینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز چار سدہ خیبر پختونخوا کے معروف عالم دین شیخ الحدیث استاذ العلماءحضرت مولانا ادریس کو شہید کرکے ظلم کی انتہا کردی، ان کے قتل نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا، آج کے احتجاج کے توسط سے ان کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کے حوالے سے صوبائی حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا اور اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں اس کو شامل نہیں کیا تو صوبائی قیادت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 10 مئی کو ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔


