وزیراعلیٰ بلوچستان کی مولانا واسع سے ملاقات، مدارس بل پر 10 روز کی مہلت طلب کرلی، قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو جمعیت 20 مئی کو احتجاج کرنے میں آزاد ہوگی، مولانا واسع
کوئٹہ(یو این اے )وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علما اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر صوبائی وزرا اور اراکینِ اسمبلی کی بڑی تعداد بھی وزیراعلی کے ہمراہ تھی۔ ملاقات کے دوران صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان کے قیام اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں خاص طور پر مدارس کی رجسٹریشن کے عمل اور اس سے متعلق درپیش رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلی بلوچستان نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے اور تعلیمی و مذہبی اداروں کی بہتری کے لیے جے یو آئی جیسی بڑی سیاسی قوتوں کی مشاورت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مولانا عبدالواسع سے استدعا کی کہ حکومت کو دس روز کا وقت دیا جائے تاکہ مدارس کے حوالے سے مجوزہ بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروایا جاسکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اگر دس دن میں قانون سازی مکمل نہ ہوئی تو جمعیت علماءاسلام 20 مئی کو اپنا جمہوری احتجاج کرنے میں آزاد ہوگی۔ وزیراعلیٰ کی درخواست پر مولانا عبدالواسع نے 10 مئی کو طے شدہ احتجاج کو 20 مئی 2026 تک موخر کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا عبدالواسع نے وزیراعلی اور ان کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور مدارس کے حوالے سے جے یو آئی کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔


