جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار، پانی کی قلت بلوچستان کے ماحولیاتی نظام کیلئے سنگین خطرات ہیں، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ (ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے عالمی یوم ماحولیات کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ ماحولیات کا تحفظ انسانی بقا، معاشی ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور قدرتی وسائل پر بڑھتا دباﺅ مشترکہ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ عالمی یوم ماحولیات کا موضوع بلوچستان جیسے خشک سالی سے متاثرہ صوبے کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے، بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات واضح ہیں، ماحول دوست پالیسیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زیارت کے جونیپر جنگلات، قومی پارکس اور نایاب جنگلی حیات بلوچستان کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں، قدرتی ورثے کا تحفظ ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جنگلات کی کٹائی، غیر قانونی شکار، سالڈ ویسٹ اور پانی کی قلت ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات ہیں، ماحولیاتی چیلنجز سے بروقت نمٹنے میں ناکامی زراعت، معیشت اور صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔ گرین بلوچستان پروگرام کے تحت شجرکاری مہم کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے، زیارت کے عالمی شہرت یافتہ جونیپر جنگلات کے تحفظ اور بحالی کے لیے خصوصی منصوبوں پر عمل جاری ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ، آبی منصوبوں اور ڈیمز کی تعمیر پر صوبائی حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے، پلاسٹک بیگز اور سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کے لیے قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ماحولیات کا تحفظ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں، ہر شہری کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانا ہوگا، اہل بلوچستان ہر گھر میں کم از کم ایک درخت لگائیں اور اس کی نگہداشت کو اپنی ذمہ داری بنائیں۔ پانی بلوچستان کا قیمتی قومی اثاثہ ہے، اس کے ضیاع کی روک تھام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، صوبائی حکومت سرسبز، صاف ستھرے اور ماحول دوست بلوچستان کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے