پسنی فش ہاربر کی غیر فعالیت، روزگار کے محدود مواقع اور معاشی بدحالی، علاقہ مکین نقل مکانی پر مجبور

پسنی (رپورٹ: سخی کریم) پسنی کی معیشت زوال کا شکار، شہری نقل مکانی پر مجبور، فش ہاربر کی غیر فعالیت، روزگار کے محدود مواقع اور معاشی بدحالی نے عوام کو مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی کی معیشت گزشتہ چند برسوں سے مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب پسنی کو بلوچستان کے اہم تجارتی اور ماہی گیری مراکز میں شمار کیا جاتا تھا، لیکن آج صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہونے، فش ہاربر کی غیر فعالیت اور کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی کے باعث شہری اپنے آبائی گھروں اور جائیدادوں کو فروخت کرکے دیگر شہروں کی جانب ہجرت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ پسنی کی معیشت کا بنیادی انحصار ماہی گیری کے شعبے پر رہا ہے۔ فش ہاربر میں روزانہ سینکڑوں کشتیوں کی آمد و رفت اور مچھلیوں کی خرید و فروخت سے نہ صرف ماہی گیروں بلکہ ٹرانسپورٹ، برف سازی، پیکنگ، مزدوری اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے فش ہاربر کی غیر فعالیت سے ان سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فش ہاربر کی غیر فعالیت اور علاقے میں کاروبار کے دیگر ذرائع نہ ہونے سے علاقے کی اقتصادی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہی گیر برادری کا مو¿قف ہے کہ بنیادی سہولیات کی کمی، فش ہاربر کی غیر فعالیت، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور سمندری وسائل کے مو¿ثر انتظام نہ ہونے کے باعث ان کے کاروبار میں پہلے جیسا منافع بخش نہیں رہا،معاشی مشکلات کے باعث نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے، جبکہ تعلیم یافتہ نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں گوادر، تربت اور دیگر قریبی شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق کئی خاندان اپنے مکانات اور زمینیں فروخت کرکے مستقل طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد خاندان ہجرت کی تیاریوں میں مصروف ہیں،عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پسنی میں روزگار کے نئے مواقع پیدا نہ کیے گئے اور فش ہاربر کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے مو¿ثر اقدامات نہ کیے گئے تومستقبل میں علاقے سے ہجرت کا رجحان مزید بڑھ سکتا ہے۔ مقامی تاجروں کے مطابق کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے باعث بازاروں میں بھی پہلے جیسی رونق نہیں رہی، جس سے ان کا کاروبار بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ سماجی و سیاسی حلقوں نے حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ پسنی کی معاشی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فش ہاربر کی مکمل فعالیت، ماہی گیری کے شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، ساحلی تجارت کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے ہنر مندی و روزگار کے منصوبے شروع کرکے علاقے کی معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پسنی جو ساحلی اور سیاحتی اہمیت کے اعتبار سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل علاقہ ہے، تاہم مناسب توجہ اور منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صلاحیتیں بروئے کار نہیں لائی جا سکیں۔ عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومتی ادارے علاقے کے مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ایسے اقدامات کریں گے جن سے نہ صرف معیشت کو سہارا ملے بلکہ مقامی آبادی کو اپنے آبائی شہر میں باعزت روزگار اور بہتر مستقبل میسر آ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں