تاجروں، ٹرانسپورٹر ز ودیگر تنظیموں نےبلوچستان حکومت سے مذاکرات اور یقین دہانی پر 10روز کے لیے احتجاج موخرکردیا

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے خلاف چیمبر آف کامرس، ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور مائنز اونرز کی کال پر صوبہ بھر میں شٹر ڈاو¿ن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، بلوچستان حکومت اور ہڑتالی تنظیموں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد 10روز کے لیے احتجاج موخرکردیا ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان کی ٹرانسپورٹر، تاجر اور مائنز اونرز الائنس کی ہڑتال کی کال پر صوبے بھر میں قومی شاہراہوں پر پہیہ جام اور شہروں میں شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی گئی ۔ ہڑتال کے باعث کوئٹہ اور صوبے کے دیگر مختلف علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں، جبکہ ٹریفک کی روانی بھی معمول سے کم رہی۔ اس دوران کوئٹہ سے پشین، چمن، ژوب، سندھ ، خیبر پختونخواءاور پنجاب جانے والی شاہراہیں مختلف مقامات پر بند گئیں ۔الائنس کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہوں پر آئے روز ٹرک جلانے کے واقعات کے باعث ٹرانسپورٹرز اور تاجر شدید مالی نقصان کا شکار ہیںساتھ ہی تاجروں کو درپیش مشکلات کی وجہ سے انہیں نقصانات ہورہے ہیں الائنس کے رہنماﺅں نے مطالبات کی منظوری تک شٹر ڈاو¿ن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ دریں اثناءجمعرات کو کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان محمد حمزہ شفقات نے تاجروں سے مذاکرات کیے ۔ اس موقع پر تاجر الائنس کے رہنماﺅں کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ نے بلوچستان حکومت سے متعلق تاجروں ،ٹرانسپورٹرز کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے مختلف احکامات جاری کردئےے ہیں جبکہ وفاق سے متعلق معاملات پر وزیراعظم سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے فوری عملدآمد کی یقین دہانی کروائی اور حکام کو کوئٹہ بھیجنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز سے مذاکرت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کے کئی مطالبات کا تعلق وفاقی حکومت ہے ہم نے صوبے سے متعلق مطالبات کے حل کی یقین دھانی کرائی ہے جس کے بعد تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز نے دس روز کیلئے ہڑتال مو خر کردی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں