وفاق کی جانب سے صوبے کے فنڈز پر 94 ارب روپے کا کٹ لگایا جارہا تھا جسے وزیراعلیٰ نے 58 ارب روپے کم کروایا، ضیاء لانگو
کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی کے حکومتی اراکین نے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے فنڈز پر94ارب روپے کا کٹ لگایا جارہا تھا جسے وزیراعلیٰ نے کم کروا کر 58ارب روپے کیا، نامساعد اور مشکل مالی حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اراکین نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبے نے انکے حلقوں کو نظر انداز کیا ہے ،بلوچستان کے عوام کو حق حاکمیت، ساحل وسائل پر اختیاردیا جائے ، صوبے کے ٹیکسز کو صوبے میں ہی جمع کروایا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ بلوچستان معیشت میں کتنا حصہ ڈالتا ہے ، نیشنل پارٹی نے وفاقی اور صوبائی بجٹ کو مسترد کردیا ۔جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27ءکے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ بجٹ میں بلوچستان کیلئے کوئی میگا پروجیکٹ نہیں رکھا گیا206ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ صوبے کے لئے ناکافی ہے عام تاثر ہے کہ ترقیاتی فنڈز میں کرپشن ہوتی ہے اور یہ پیسے ایم پی ایز کی جیب میں جاتے ہیں یہ بالکل غلط ہے ہمیں بدنام کیا جارہا ہے جب اسکیمات محکمے بناتے ہیں اس پرعملدرآمدمحکمے کرتے ہیں تو اس میں ایم پی اے کا کیا کام ہے بجٹ میں ایم پی اے کا کام صرف تجاویز دینے تک ہوتا ہے اگر کرپشن ہوتی ہے تو یہ محکموں کی سطح پر ہوتی ہوگی ایم پی ایز کا اس سے کوئی سروکار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے بلوچستان کے بجٹ پر 63ارب روپے کا کٹ لگایا ہے پنجاب کے ایک محکمے کا بجٹ 206ارب روپے ہے چمن تا کراچی قومی شاہراہ کا متعدد بار افتتا ح ہوا ہے اب کہا جارہا ہے کہ اس کیلئے 100ارب روپے رکھے گئے ہیں کئی سالوں سے یہ منصوبہ چلا آرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آن گوئنگ اسکیمات کے لئے فنڈز مختص کئے جائیں اسکولوں کیلئے بھی فنڈز ہونے چاہئے ہمیں شکایت ہے کہ جو پیسے محکمہ تعلیم میں رکھے گئے ہیں وہ منظور نظر اضلاع میں تقسیم ہونگے تمام اضلاع کوبرابری کی بنیاد پر دیکھناچاہئے ۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کیلئے رواں مالی سال میں بھی خطیر رقم رکھی گئی اورآئندہ مالی سال میں بھی خطیر رقم رکھی گئی ہے لیکن گزشتہ سال میں بھی امن قائم نہیں ہوا امن و امان کیلئے جتنے پیسے رکھے گئے ہیں انہیں مدنظررکھتے ہوئے امن و امان کی صورتحال ٹھیک ہونی چاہئے ۔انہوںنے وزیراعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ وزیراعلیٰ ملازمین کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں انکا درد دل میں رکھتے ہیں ملازمین سراپا احتجاج ہیںوزیراعلیٰ کو مس گائیڈ کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ استاد قوم کے معمار ہیں ان پر لاٹھی چارج ،آنسو گیس کا استعمال اچھی مثال نہیں ان سے بیٹھ کربات کی جائے کچھ اپنی بات منوالیں اور کچھ انکی باتیں مان لیںہم بھی اس میں کرداراد اکرنے کیلئے تیار ہیں گزشتہ روز جو کچھ ہوا اس سے اچھا تاثر نہیں گیا ایک اسکول کی بچی آنسو گیس لگنے سے متاثر ہوئی جوکہ کسی صورت اچھی بات نہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو مشورہ دینے والے انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں بھی ہزاروں نوکریوں کا اعلان کیا گیا اب بھی 5ہزار نوکریاں دینے کا اعلان کیا گیا ہے لگتا یوں ہے کہ یہ نوکریاں وزیرخزانہ کے حلقے خاران میں سب سے زیادہ دی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال ہزاروں نوکریوں کا اعلان ہوا لوگوں نے فیس جمع کی سفر کرکے آئے ٹیسٹ ہوئے مگر اب بھی آرڈر جاری نہیں ہورہے ہیںاگر لوگوں کو نوکری نہیں دینی تو انہیں کیوں ذلیل و خوار کر رہے ہیں وزیراعلیٰ ا س معاملے میں غفلت کے مرتکب وزراء،سیکرٹریز اور ڈی جیز سے پوچھیں کہ بھرتیوں کا عمل کیوں مکمل نہیں ہورہا ہے قائد حزب اختلاف میریونس عزیز زہری نے کہا کہ بارڈر بند ہیں نوکریاں دی نہیں جارہیں وفاق بلوچستان کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک کر رہا ہے ہم جب کہتے ہیں کہ بارڈر کھولیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ اسمگلنگ کی بات کر رہے ہیںایسا ہرگز نہیں ہے ہم کہتے ہیں کہ چمن ،تفتان ،واشک ،پنجگور ،تربت ،گوادر سمیت دیگر اضلاع میں بارڈ کھولیں تاکہ وہاں تجارت ہو اورٹیکس اکٹھا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ بارڈر سے دہشت گردی ہورہی ہے سارے پیسے وفاق اوردیگر صوبے لیکر جارہے ہیں اوردہشتگردی کی ذمہ داری ہم پر ڈال دی جاتی ہے بلوچستان کوسرکا تاج کہنے والے اسکی ترقی کیلئے206ارب روپے دے رہے ہیں اس پر ہمیں بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔انہو ں نے کہا کہ پاکستان بلوچستان پر چل رہا ہے سیندک ،سوئی گیس ،حبکو پاور پلانٹ،کرومائیٹ سمیت دیگر منصوبوں کا ٹیکس کہاں جاتا ہے ہمارے ٹیکس لاہور اورکراچی میں جمع ہوتے ہیں وفاق بلوچستان کواپنے پیروں پر کھڑا ہونے دے ہم صوبہ چلاکر دکھائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پی ایس ڈی پی پر نظرثانی کریں اورآن گوئنگ اسکیمات ختم کرنے پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بجٹ کو تب اچھا کہتے جب پیسے ہوتے ہم اور حکومت مجبور ہیں بہت سی باتیں یہاں نہیںکرسکتے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ورکن اسمبلی ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ کے بعددنیا کی مجموعی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اس جنگ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی نے پہلی بار جنگ کے شعلے بجھانے کا درست کام کیا ۔انہوں نے کہا کہ 1973ءکا آئین کہتا ہے کہ پاکستان وفاقی جمہوری اسلامی ملک ہوگاموجودہ دور میںجمہوریت اور وفاق سے کوئی تعلق نہیں عوام کو کوئی اہمیت حاصل نہیں وفاق ،صوبے ،لوکل باڈیز غائب ہیں ملک میں صرف اسٹیبلشمنٹ ہے پارلیمنٹ کی حیثیت ختم کردی گئی ہے عدلیہ مقید ہے میڈیا کا برا حال ہے آئین وینٹی لیٹر پر ہے وہ مظالم کئے جارہے ہیں جو آئین کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوئے اب شوشا چھوڑا جارہا ہے کہ نئے صوبے بنائیں گے اور 18ویں ترمیم ختم کریں گے اور این ایف سی ایوارڈ سے وفاق کو نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ اگر صوبے بنانے ہیں تو نیپ کے فارمولے پر بنائیں ہم جبری تقسیم نہیں مانیں گے اور نہ ہی 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے دیں گے اگر آئین کو چھیڑا گیا تو کیاپہلے کم فسادات ہیں جو مزید پیدا کئے جارہے ہیںسی سی آئی کا پندرہ ماہ سے کوئی اجلاس نہیں ہواوفاق نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صحت ،تعلیم کے شعبوں میں فنڈز رکھے ہیںاگر وفاق آئین نہیں مان رہا تو ہم نئے عمرانی معاہدے کا مطالبہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ عوام کے حق حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے جسے عوام منتخب کریں اسے حکمرانی کا حق د یا جائے روز بروز حالات بدترہورہے ہیں عوام سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کو مذاق بنادیا گیا ہے اور وہ ریاست سے دور ہورہے ہیں ہمارے وسائل لوٹ کر ہمیں ہی طعنہ دیاجارہا ہے کہ ہم خسارے میں ہیں بلوچستان کے ساحل و وسائل پر ہمیں اختیار دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے فشریزکی مدمیں ساڑھے 5ارب ڈالر برآمدات کی جاتی ہیں پورٹ پر ہرپندرہ دن بعد ایک جہاز آئے تواسکا اڑھائی لاکھ کرایہ کراچی میں جاتا ہے تمام صنعتوں کے اکاونٹس کیوں یہاں نہیں کھولے جاتے تاکہ سب کو معلوم ہو کہ بلوچستان معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ صوبہ دو دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے نہ ریاست مذاکرات چاہتی ہے اور نہ سرمچار ،کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کثیر الجہتی حکمت عملی بنائیں کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم یہاں صنعتیں بنائیں سی پیک منصوبے کے تحت سڑکیں بنیں لیکن ایک بھی انڈسٹریل زون نہیں بناوفاق 25سال سے کچھی کینال منصوبہ مکمل نہیں کر رہا ہے پٹ فیڈر میں 7ہزارکی بجائے 3ہزار کیوسک پانی ملنے سے زراعت تباہ ہے جہاں پینے کا پانی نہ ہو وہاں زراعت کیسے ہوگی ۔انہوںنے کہا کہ فشریز ،لائیو سٹاک ،زراعت سمیت دیگر شعبوں میں حکمت عملی اپناکر بہتری لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کامسئلہ اہم ہے اس ایوان میں قانون سازی کرکے ہمیں کہا گیا کہ اس سے مسئلہ حل ہوگا وزیراعلیٰ اس مسئلے کو حل کریں ماورائے آئین قتل ہورہے ہیں تربت،پنجگور میں کوئی دن ایسا نہیں کہ مختلف الزامات لگاکر لاشیں نہ گرائی جائیں آج سڑکیں محفوظ نہیں ہم گھروں کو نہیں جاسکتے تاجروں کی گاڑیاں جلائی جارہی ہیںسیاسی کی بجائے صوبے کو اسٹریٹجک طریقے سے چلایا جارہا ہے کیا یہ ایوان صوبے کونہیں چلاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کو حق رائے دہی دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کشمیر کو اپنی شہ رگ کہہ کرپانچ جنگیں لڑیں لیکن آج وہاں کیا ہورہا ہے جو نعرے لگ رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہماری تجویز کردہ ایک بھی اسکیم بجٹ میں شامل نہیں کی جہاں امن وامان خراب ہے وہاں پیسے رکھ دیئے گئے ہیں تاکہ وہ خرچ نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ وفاق جو کھیل کھیل رہا ہے اب وہ نہیں چلے گا این ایف سی کیلئے آئینی فریم ورک میں تبدیلی کی ضرورت تھی جس میں پیپلزپارٹی رکاوٹ بنی بعد میںکہا گیا کہ چندہ کریں اور فنڈز کاٹے گئے وفاق اپنی شہ خرچیاں ختم کرے ۔ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو گڈگورننس چاہئے جس کیلئے طاقت اور اختیارہونا ضروری ہے صوبے میں امن ،احتساب ،کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور پراثر حکمرانی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ،ووزیر صحت کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہماری تجاویز پرکیتھ لیب دیا جھالاوان ،مکران ،لورالائی میڈیکل کالجز کے کنٹریکٹ ڈاکٹرز چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گرفتار کئے گئے 63ملازمین کو چھوڑا جائے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا بل منظور کیا جائے ڈپٹی کمشنرز کو جو 40ارب روپے سے نوازا گیا ہے مشکل ہے کہ ڈپٹی کمشنرز وہ ہمیں دکھائیں بھی کمیٹی میں منتخب نمائندوں کو رکھا گیا ہے مگر عوامی نمائندوں کی حیثیت برقرار رکھنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی وفاقی اوربلوچستان حکومت کے بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اس سے بہتربجٹ نہیں ہوسکتاتھاٹیکس فری بجٹ دینا قابل تعریف ہے کمیونٹی اسکولز کی تعمیر اور موجودہ اسکولوں کواپ گریڈ کررہے ہیں جامعات کیلئے کارکردگی کی بنیاد پر 2ارب روپے اضافی رکھے گئے ہیں گرین بس ،پنک بس ،اسکوٹی ،سکالرشپس ،ڈی جی بز کے تحت ہنر سکھانے کے اقدامات قابل ستائش ہیں تنقید آسان ہے لیکن کام کرنا مشکل ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو بہت کم پیسے ملے ہیںلیکن اسکے باوجود ہم بجٹ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔صوبائی وزیرداخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود بہتر بجٹ دیا گیا ہے اگرچہ 206ارب روپے بلوچستان کی ترقی کیلئے ناکافی ہیں لیکن ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے صوبے کو منافع ہوگا انہوں نے کہا کہ صحت کے بجٹ میں 30فیصد،تعلیم میں 15فیصداضافہ نوجوانوں کیلئے بیف ،بے نظیر بھٹو اسکالرشپ احسن اقدامات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ امن ہوگا تو ترقی ہوگی موجودہ بجٹ میں سی ٹی ڈی کو مضبوط کرنے کیلئے پیسے رکھے گئے ہیں اے ٹی ایف اوراسپیشل فورس میں بھرتیاں کی جائیںگی۔انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں نے وفاق کو پیسے دیئے ہیں وزیراعلیٰ اورچیف سیکرٹری نے بلوچستان کے حقوق کیلئے جنگ لڑی ہے صوبے کے حصے سے 94ارب روپے کٹنے تھے جوکہ اب 58ارب روپے کٹے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایم پی ایز کو پیسے ملتے ہیں۔صوبائی وزیر نورمحمد دمڑ نے کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس سے بہترین بجٹ پیش نہیں کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کا بجٹ بڑھا ہے امن و امان ہوگا تو ترقی ہوگی اگر امن وامان کیلئے ترقی فنڈز کٹ بھی جائیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو عوام میں یہ شعور بیدارکرنا ہوگا کہ یہ ہماری دھرتی ہے ہمارے ملک کے خلاف لڑائی چل رہی ہے عوام کو گھروں کے سامنے مارا جارہا ہے ہرنائی میں پانچ افراد کو شہید کیا گیایہ جنگ ہم سب نے
ملکرلڑنی ہے۔جمعیت علماءاسلام کے رکن سید ظفر آغا نے بجٹ پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شعبہ لے لیں وفاق نے ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا کردار ادا کیا بلوچستان میں ایک بھی موٹر وے نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ میں وفاق کا ظلم دیکھ کر دل برداشتہ ہو گیا ہوںمیں اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں ۔صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت نے ایک بہترین بجٹ پیش کیا وزیر اعلی نے اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے کافی پیسوں کی کٹوئی بچائی ۔انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان میں ترقی نہیں چاہتے ہیں انشاءاللہ صوبے میں اچھا وقت آئے گا۔صوبائی وزیر لائیو اسٹاک فیصل جمالی نے بجٹ پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اوستہ محمد میں چار بار سیلاب سے شدید نقصان پہنچا اوستہ محمد کے لیے کیوں کوئی ماسٹر پلان نہیں بنایا جا رہا ۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کٹوتی سے ہمارے لیے بہت مشکلات ہوتی ہیںلائیو اسٹاک کے لیے مختص بجٹ میں بہتری لانا مشکل ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس بجٹ میں بھی بہتری کے لیے اقدامات کر سکیںبجٹ میں اوستہ محمد کو نظر انداز کیا گیا، کوئی بڑی اسکیم نہیں رکھی گئی ۔جمعیت علماءاسلام کے رکن اسمبلی غلام دستگیر بادینی نے کہا کہ بلوچستان جیسے بڑے صوبے کے لیے 200 ارب کا ترقیاتی بجٹ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے، میرے حلقے میں بھی کوئی بڑا منصوبہ نہیں رکھا گیا،بجٹ میں میرے حلقے کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ نوشکی ، چاغی میں کوئی بڑا منصوبہ شامل نہیں ، ہمارے حلقے میں بہترین کاٹن پیدا ہوتا ہے ، یہاں اس حوالے سے کوئی فیکٹری لگائی جا سکتی ہے صوبے میں بے روزگاری کی مناسبت سے 5 ہزار آسامیاں بہت کم ہیں ۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمر ک خان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ بلوچستان کو این ایف سی کے مطابق رقم دی گئی ، بلوچستان کو وفاقی بجٹ میں این ایف سی کے مطابق بجٹ نہیں ملا ، قلعہ عبداللہ کو 18 برسوں میں وفاق سے ایک اسکیم نہیں ملی وفاق کا صوبوں سے پیسے لینا 28 ویںترمیم کی شروعات ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو قدرتی خزانے ہیں ان کی مالیت 8 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے ، وفاق کو بلوچستان کی آواز سننا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امن وامان بہتر ہوگا آپ کے اخراجات کم ہوں گے ۔بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس آج صج 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔


