ہاشم نورزئی قتل کیس میں پانچ ملزمان گرفتار، 16 کروڑ روپے کے تنازع پر دوست نے دوست کو قتل کیا، ملزم نے اعتراف جرم کرلیا، ڈی آئی جی کوئٹہ

کوئٹہ (یو این اے) کوئٹہ پولیس نے کابل جان ریسٹورنٹ کے مالک محمد ہاشم نورزئی کے قتل کیس میں ریکی کرنے والے دو افراد سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ ملزمان کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے جدید سائنسی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ، تکنیکی تحقیقات اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے قتل کی گتھی سلجھائی اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لے آئی ڈی آئی جی عمران شوکت نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں مرکزی ملزم حکمت اللہ نورزئی امان اللہ نورزئی بھی شامل ہے، جبکہ دو افراد نے مقتول کی ریکی کی تھی اور دیگر ساتھیوں نے منصوبہ بندی اور واردات میں معاونت کی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے روز حکمت اللہ اور اس کے تین ساتھیوں نے محمد ہاشم نورزئی جان محمد کی گاڑی کو روکا، جس کے بعد حکمت اللہ نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی فائرنگ کے بعد بھی حکمت اللہ گاڑی سے نیچے اترا اور اس نے دوبارہ قریب جا کر فائرنگ کی تاکہ مقتول کے زندہ بچنے کا کوئی امکان نہ رہے ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جسے فرانزک جانچ کیلئے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ دیگر شواہد بھی اکٹھے کر لئے گئے ہیں پریس کانفرنس کے دوران ڈی آئی جی عمران شوکت نے انکشاف کیا کہ ابتدائی تحقیقات اور ملزمان کے اعترافی بیانات سے معلوم ہوا ہے کہ محمد ہاشم نورزئی اور ملزمان کے درمیان تقریبا 16 کروڑ روپے کے مالی لین دین کا تنازع چل رہا تھا، جس کے باعث قتل کی منصوبہ بندی کی گئی انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم حکمت اللہ نورزئی نے دوران تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول محمد ہاشم نورزئی کے ساتھ ان کے مالی معاملات پر شدید اختلافات تھے۔ حکمت اللہ کے مطابق اس نے اپنے بھائی سعداللہ نورزئی کے ساتھ مل کر محمد ہاشم نورزئی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی اور پھر اس منصوبے پر عمل درآمد کیا ڈی آئی جی عمران شوکت نے کہا کہ گرفتار ملزمان میں پانچ افراد شامل ہیں، تاہم مرکزی ملزم حکمت اللہ کا بھائی سعداللہ نورزئی تاحال مفرور ہے، جس کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ قتل کی واردات کے بعد سعداللہ نورزئی نے خود کو بے گناہ ظاہر کرنے کیلئے مقتول کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا، فاتحہ خوانی میں شریک ہوا اور احتجاجی دھرنے میں بھی موجود رہا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو، تاہم پولیس کی تحقیقات نے تمام حقائق بے نقاب کر دیےڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ یہ واقعہ دراصل "دوست نے دوست کا قتل” کرنے کی افسوسناک مثال ہے، جہاں برسوں کی دوستی مالی تنازع کی نذر ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ہر پہلو سے تحقیقات کیں اور کسی دبا یا قیاس آرائی کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی عمران شوکت نے کوئٹہ پولیس کی تفتیشی ٹیم، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ، تکنیکی ماہرین اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے انتہائی کم وقت میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا، ملزمان کو گرفتار کیا اور قتل کا مقصد بھی سامنے لے آئی انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے، مفرور ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف قتل، سازش اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں، اور اس کیس میں ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلائی جائے گی انہوں نے کہا کی میرا خان اور دلاور خان نے ریکھی کی انہوں نے کہا کہ نورزی خواب کے جانب ہونے کے بعد جو درجنہ ہوا اس نے سعد اللہ نے شرکت بھی کی اور اس طرح کرییٹ کرتا رہا کہ اسے شدید افسوس ہوا ہے اور جب تدفین کے بعد اتے خوا نی ہو تو سعد اللہ نے تدفین اور فاتحہ خوانی میں بھی شرکت کی انہوں نے کہا کہ جب پولیس اس کے گھر کے قریب پہنچی تو ملزم ہوشیار ہو گیا اور روپوش ہو گیا انہوں نے کہا کہ ایک کالے رنگ کی ویگو گاڑی تھی جس کو ہم نے ٹریس کیا وہ ویگو گاڑی دھرنے میں بھی موجود تھی قبرستان میں بھی موجود تھی اور فاتحہ خوانی والی جگہ پر بھی موجود تھی انہوں نے کہا کہ ہاشم نورزئی کے ایک پارٹنر تھے جن سے کاروباری سلسلے میں آٹھ ماہ پہلے ان کی ناراضگی ہو گئی تھی انہوں نے کہا کہ قتل کیس کے بعد کوئٹہ شہر میں عوام میں شدید خوف و اراست پھیل گیا تھا پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صرف ایک اس معاملے میں نہیں گزشتہ جنوں سے جو بھی واقعات ہوئے ہیں اس میں الحمدللہ سے کوئٹہ پولیس نے ملزمان کو ٹریس کیا ہے اور گرفتار بھی کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں