بلوچستان اسمبلی میں عملی طور پر اپوزیشن کا وجود نہیں ، حکومتی رکن اصغر رند
تربت۔ پاکستان پیپلز پارٹی حلقہ پی بی 28 کے زیر اہتمام کلاتک میں14 اگست کی تیاریوں کے حوالے سے ایک جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور پارلیمانی سیکرٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے کی جبکہ مہمان خصوصی صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی تھے، جشن آزادی پروگرام میں پارٹی کارکنان، علاقائی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ، پارلیمانی سیکرٹری برائے انرجی میر اصغر رند نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامیاب پروگرام کے انعقاد پر کلاتک کے پارٹی کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل اور نامساعد حالات کے باوجود کارکنان نے جس جذبے کے ساتھ یہ شاندار پروگرام منعقد کیا، وہ قابلِ ستائش ہے اور یہ عوامی رابطے کے حوالے سے ایک اچھی ابتدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلاتک اور گردونواح کے علاقوں کو ہمیشہ ترجیح دی ہے اور انہیں کسی بھی شعبے میں نظر انداز نہیں ہونے دیا، بلکہ دستیاب وسائل کے مطابق ہر شعبے میں ترقیاتی و عوامی فلاح کے کام کیے گئے ہیں۔میر اصغر رند نے کہا کہ آج حلقہ انتخاب کے عاقہ کلاتک میں یہ پروگرام منعقد کیا ہے آئندہ پروگرام تمپ میں کریں گے ، حلقہ کے عوام نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے، اسے کسی صورت مایوس نہیں ہونے دیں گے، علاقے میں بجلی کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ہوم سولر سسٹمز اور زرعی بورز کی فراہمی سمیت مختلف اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہمارے کارکنان کو کبھی یہ طعنہ نہ سننا پڑے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے نے ان کے علاقے کے لیے کام نہیں کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی جیسی قومی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے عوام کی بہتر انداز میں خدمت کی جا سکتی ہے اور ہماری سیاست کا مقصد عوامی مسائل کا حل اور علاقے کی ترقی ہے۔میر اصغر رند نے میرانی ڈیم کے متاثرین کے معاوضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غریب متاثرین کے معاوضے تاحال التوا کا شکار ہیں، جبکہ بڑے متاثرین اپنے معاوضے حاصل کرچکے ہیں اور چھوٹے متاثرین اب بھی مشکلات سے دوچار ہیں ان کے معاوضوں کی ادائیگی جلد یقینی بنانے کیلئے کوشش کی جائے گی انہوں نے کہاکہ سیاست میں منافقت نہیں ہونی چاہیے، بلوچستان اسمبلی میں عملی طورپر اپوزیشن کا وجود نہیں ہے کیونکہ اپوزیشن بھی وہی فنڈز لے رہی ہے جو حکومتی ارکان لے رہے ہیں ،جھوٹ کی سیاست اب نہیں چل سکتی، عوام باشعور ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں،انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومتی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہتر انداز میں حکومت چلا رہے ہیں، تمپ کو ضلع کا درجہ دینا ایک انقلابی اقدام ہے، حلقہ پی بی 28 اب پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے اور حلقہ کے عوام پاکستان کی یوم آزادی کی تقاریب منارہے ہیں ،مہمان خصوصی صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور بنیادی و اجتماعی مسائل پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ کلاتک، مند روڈ ایک سنگین اور اہم مسئلہ ہے، جس پر تقریباً 19 ارب روپے کی لاگت سے کام جاری ہے، مشکلات کے باوجود منصوبے پر کام جاری رکھا گیا ہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ،میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں تربت میں گرین بس سروس شروع کی گئی ہے، جس میں مزید توسیع کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بہتر اور باعزت سفری سہولیات میسر آسکیں ،انہوں نے کہا کہ کیچ میں 424 اساتذہ تعینات کیے گئے ہیں جبکہ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ، بلوچستان میں بہتر تعلیمی ماحول کے قیام کے لیے حکومت کوششیں کر رہی ہے، صوبائی وزیر نے بتایا کہ کلاتک میں اللہ بحت اور شے تگر کے علاقوں میں ان کے فنڈز سے لائبریریاں قائم کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ کھلی کچہری میں کلاتک کے عوام کی جانب سے جو مسائل اور مطالبات پیش کیے گئے ہیں، ان کے حل کے لیے میر اصغر رند کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کیے جائیں گے،میر ظہور بلیدی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جیسی قومی سطح کی سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی عوامی مسائل کے حل اور ترقی کا سفر تیز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں اور محدود سیاست کے باعث ہم گزشتہ کئی دہائیوں سے انہی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، جبکہ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے ذریعے ترقی کا سفر تیز تر ہوسکتا ہے۔ محض سیاسی نعروں اور شعبدہ بازی سے عوامی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔پاکستان پیپلز …


