چین کا روشن چہرہ،ڑنہوا ورکشاپ سے شاہی محل اورمصنوعی ذہانت کے عالمی انقلاب تک ..تحریر:حسن بٹ


بیجنگ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا کی قیادت آج چین کے ہاتھ میں ہے اس قیادت کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ڑنہوا نیٹ کی جانب سے منعقدہ تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ میں ملا یہ ورکشاپ صرف ایک تربیتی نشست نہیں تھی بلکہ چین کے ماضی،حال اور مستقبل کو ایک ہی لڑی میں پرونے کا ایک شاندار تجربہ تھا جس میں صحافت، تاریخ، طب اور مصنوعی ذہانت سب ایک ساتھ نظر آئے۔اس ورکشاپ کا اہتمام ڑنہوا نیٹ نے کیا تھا۔ ڑنہوا نیٹ کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔ ڑنہوا نیوز ایجنسی چین کی سرکاری اور دنیا کی سب سے بڑی خبر رساں ایجنسیوں میں سے ایک ہے جس کی تاریخ 1931 سے شروع ہوتی ہے۔ جب چین نے اپنی آزادی اور خودمختاری کی جنگ لڑی تو ڑنہوا نے سچ کی آواز کو دنیا تک پہنچایا آج ڑنہوا نیٹ اسی ادارے کا ڈیجیٹل بازو ہے جو 30 سے زائد زبانوں میں دنیا بھر میں خبریں پہنچاتا ہے۔جب مغربی میڈیا اکثر چین کے خلاف یکطرفہ اور منفی پروپیگنڈہ کرتا ہے ڑنہوا نیٹ دنیا کو حقائق، توازن اور تعمیری صحافت کی مثال فراہم کرتا ہے۔ اس ورکشاپ کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ چین دنیا سے کچھ چھپانا نہیں چاہتا بلکہ دنیا کو اپنی ترقی میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ یہ کھلے پن اور اعتماد کی علامت ہے۔ورکشاپ کے پہلے دن ہمیں مصنوعی ذہانت اور نیوز پروڈکشن پر ایک خصوصی لیکچر دیا گیا یہ لیکچر چین کی عظیم درسگاہ رینمن یونیورسٹی آف چائنا کے سکول آف جرنلزم اینڈ کمیونیکیشن کے اسسٹنٹ پروفیسر وانگ یوپنگ نے دیا۔رینمن یونیورسٹی کی تاریخ خود چین کی جدید تاریخ ہے۔یہ یونیورسٹی 1937 میں قائم ہوئی اور اسے چینی کمیونسٹ پارٹی نے قائم کیا تھا۔ اس کا مقصد شروع سے ہی چین کے لئے ایسے ماہرین تیار کرنا تھا جو ملک کی خدمت کر سکیں۔ آج اس کا شمار چین کی ٹاپ 5 یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے اور اس کا سکول آف جرنلزم پورے ایشیا میں نمبر ون مانا جاتا ہے۔پروفیسر وانگ یوپنگ نے بتایا کہ ڑنہوا اور دیگر چینی میڈیا ہاو¿سز کس طرح AI کو استعمال کر رہے ہیں۔ AI نیوز روم میں خبروں کا مسودہ تیار کرتا ہے، ویڈیوز کو خودکار طریقے سے ایڈٹ کرتا ہے اور یہاں تک کہ AI اینکرز خبریں پڑھ رہے ہیں۔ اس سے انسانی صحافیوں کا وقت بچتا ہے اور وہ تحقیقاتی اور گہری رپورٹنگ پر توجہ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کا AI ماڈل مغربی ماڈلز کے برعکس افواہوں کو روکتا ہے اور ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دیتا ہے۔ یہ چین کا صحافتی فلسفہ ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی جگہ نہیں لے گی بلکہ انسان کو مزید طاقتور بنائے گی۔اسی دن ہمیں پیلس میوزیم کا دورہ کرایا گیا جسے ممنوعہ شہر (Forbidden City) بھی کہا جاتا ہے اس جگہ کی تاریخ جانے بغیر چین کو سمجھنا ناممکن ہے۔یہ عظیم الشان محل 1406 میں منگ خاندان کے شہنشاہ یونگلے نے بنوانا شروع کیا اور 1420 میں مکمل ہوا۔ تقریباً 600 سال تک یہ محل منگ اور چنگ خاندان کے 24 شہنشاہوں کا مسکن رہا۔ 720,000 مربع میٹر پر پھیلے اس محل میں 9,000 سے زائد کمرے ہیں۔ 1925 میں اسے عوام کے لئے میوزیم کے طور پر کھول دیا گیا۔یہ محل آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو چینی قوم کی اپنی ثقافت سے محبت کا ثبوت ہے۔ چین نے اپنی تاریخی ورثے کو شاندار طریقے سے محفوظ رکھا ہے جبکہ اسی بیجنگ شہر میں دنیا کی جدید ترین فلک بوس عمارتیں بھی کھڑی ہیں۔ یہی چین کا کمال ہے کہ وہ 600 سال پرانی تاریخ اور 21 ویں صدی کی AI ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ لے کر چل رہا ہے۔ اس محل کو دیکھ کر ہر آنے والے کو اندازہ ہوتا ہے کہ چین ایک عظیم تہذیب کا وارث ہے اور اسی تہذیب کی بنیاد پر آج وہ دنیا کی رہنمائی کر رہا ہے۔ورکشاپ کا دوسرا دن سب سے زیادہ متاثر کن تھا جب ہم نے چین کی مشہور AI ہیلتھ کمپنی ایئر ڈاک (Airdoc) کا دورہ کیا۔ایئر ڈاک کی بنیاد 2015 میں رکھی گئی تھی اور آج یہ دنیا کی سب سے کامیاب میڈیکل AI کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ اس کا ہیڈکوارٹر بیجنگ میں ہے اس کمپنی نے وہ کر دکھایا ہے جو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک نہ کر سکے۔کمپنی کے منتظمین نے خود ہمارا استقبال کیا اور اپنی ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا۔ ان کی ہر بات میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔دنیا کا پہلا ملٹی سینٹر ریئل ورلڈ AI ریٹینل اسکریننگ، ایئر ڈاک نے دنیا کا پہلا نظام بنایا جو پورے چین کے سینکڑوں ہسپتالوں کے حقیقی ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہے۔ یہ آنکھ کے ریٹینا کی تصویر سے 55 سے زائد بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے۔ چین کے دور دراز علاقوں میں جہاں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر نہیں، وہاں یہ AI ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہی ہے۔پینڈرم یہ دنیا کا پہلا ملٹی ماڈل ڈرمیٹولوجی فاؤنڈیشن ماڈل ہے یعنی یہ جلد کی ہزاروں بیماریوں کو صرف تصویر سے نہیں بلکہ مریض کی پوری ہسٹری کے ساتھ سمجھ کر تشخیص کرتا ہے یہ مغربی ماڈلز سے کہیں زیادہ درست ہے۔ ایئر ڈاک کی AI آنکھ کی ایک سادہ تصویر سے بتا دیتی ہے کہ اگلے 10 سال میں دل کا دورہ پڑنے کا کتنا خطرہ ہے یہ احتیاطی علاج میں ایک انقلاب ہے اور لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے، AI فنڈس فوٹو سے ڈیمنشیا کے خطرے کا CAIDE سکور نکالتی ہے اور ریٹینل ایجنگ بائیو مارکرز کے ذریعے انسان کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتی ہے اس کی کراس پاپولیشن پریڈکشن کی صلاحیت ثابت کرتی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف چینیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے یکساں مفید ہےکمپنی نے حاملہ خواتین کے لیے ایک ذہین بیلٹ جیسا آلہ بنایا ہے جو بچے کی ہر حرکت کو مسلسل نوٹ کرتا ہے۔ یہ ایجاد ماں اور بچے کی شرح اموات کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہےاور سب سے حیران کن تجربہ ہمارا اپنا لائیو ریٹینل ٹیسٹ تھا۔ AI مشین نے ہماری آنکھوں کا معائنہ کیا اور صرف 5 منٹ میں مکمل تفصیلی ہیلتھ رپورٹ ہمارے ہاتھ میں تھی۔ یہ رپورٹ اتنی تفصیلی تھی کہ بڑے سے بڑا ہسپتال بھی اتنی جلدی نہیں دے سکتا۔ یہ چین کی سروس اور ٹیکنالوجی کا عملی ثبوت تھا۔اس کے بعد ہم نے ایک اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی کنلن وانوی (Kunlun Wanwei) اور اس کے تیانگونگ AI ماڈل (Tiangong AI) کا دورہ کیا۔کنلن وانوی کی تاریخ بھی چین کی انٹرنیٹ ترقی کی تاریخ ہے۔ یہ کمپنی 2008 میں قائم ہوئی اور آج یہ چین کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں میں سے ایک ہے جو گیمنگ، براؤزر اور AI میں کام کرتی ہے۔ اس کا تیانگونگ AI ماڈل چین کا فخر ہے۔تیانگونگ AI چین کا اپنا بڑا لینگویج ماڈل (LLM) ہے جو امریکی چیٹ جی پی ٹی کا چینی اور بہتر متبادل ہے۔ مغربی AI ماڈلز اکثر چینی ثقافت اور زبان کو نہیں سمجھتے اور تعصب کا شکار ہوتے ہیں، لیکن تیانگونگ AI مکمل طور پر چینی ڈیٹا اور چینی اقدار پر تربیت یافتہ ہے۔ یہ چینی زبان، تاریخ اور ثقافت کو بہترین انداز میں سمجھتا ہے اور دنیا کو چین کا اپنا بیانیہ فراہم کرتا ہے۔ یہ کمپنی ثابت کرتی ہے کہ چین ٹیکنالوجی کے معاملے میں کسی پر انحصار نہیں کرتا، وہ خود کفیل ہے اور خود اپنا مستقبل بنا رہا ہے۔ژنہوا نیٹ کی یہ ورکشاپ ہمیں یہ سبق دے کر گئی کہ چین کی ترقی شور شرابے والی نہیں بلکہ خاموش، ٹھوس اور انسان دوست ترقی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے پیلس میوزیم جیسی 600 سالہ تاریخ کو سنبھالے ہوئے ہے، دوسری طرف رینمن یونیورسٹی جیسے اداروں میں مستقبل کی صحافت بنا رہا ہے، اور تیسری طرف ایئر ڈاک اور کنلن وانوی جیسی کمپنیوں کے ذریعے پوری انسانیت کی صحت اور علم کی خدمت کر رہا ہے۔ایئر ڈاک جیسی کمپنیاں اور تیانگونگ جیسے AI ماڈل ثابت کرتے ہیں کہ چینی ٹیکنالوجی کا مقصد دنیا پر حکمرانی نہیں بلکہ دنیا کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک چین کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ چین کا پرامن عروج دراصل پوری دنیا کے لئے ایک نعمت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں