جہد مسلسل اور ذہنی تناؤ، بلوچستان کے صحافیوں کو درپیش چیلنجز

فیروز خان خلجی

صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ ہے جس کے ذریعے صحافی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی راہ میں تمام رکاوٹوں اور چیلنجوں سے قطع نظر۔ کے درمیان تعلق۔ صحافی اور ان کی خبریں رائے عامہ کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ عام طور پر،
سامعین کی خدمت کرنا اور انہیں آگاہ کرنا صحافیوں کے اہم ترین فرائض ہیں .آزادی اظہار اور آزادی صحافت کو عام طور پر ایک آزاد معاشرے سے منسوب کیا جاتا ہے جہاں شہریوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کا مغربی اور وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان اپنی جغرافیائی سیاسی اہمیت کے ساتھ گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کی شدید لہر کی زد میں ہے جس نے میڈیا ورکرز سمیت صوبے کے شہریوں کو شدید متاثر کیا ہے۔

کوئٹہ کے سینئر صحافی شہاب عمر کا کہنا ہے کہ میں نے بلوچستان یونیورسٹی سے ایم اے میڈیا اینڈ جرنلزم کرنے کے بعد 2010صحافت کے شعبے میں عملی طور پرقدم رکھا اور ملک نے ایک بڑے الیکٹرانک میڈیا ادارے سے وابستہ ہوگیا۔ مجھے یاد ہے نیا نیا اس فیلڈ میں آیا تو اس وقت بلوچستان کے حالات خراب تھے (ویسے حالات اب بھی ٹھیک نہیں ہیں) تو آئے روز کوئٹہ شہر کے اندر کہیں نہ کہیں بم دھماکے، خود کش حملے ہوتے تھے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے تھے۔ صحافت میں میرے ابتدائی دن تھے عملی طور پر دفتر اورفیلڈ میں سیکھنے اور تجربہ حاصل کر نے کا موقع تھا خاص طور پر 2013 سے 2018 کے دوران کوئٹہ اور اندرون صوبہ تخریب کاری کے کہیں بڑے واقعات پیش آئے اور میں نے گراونڈ پہ ان واقعات کی لائیو رپورٹنگ کی اور تین دفعہ کوئٹہ میں کوریج کے دوران میں وہاں موجود تھا کہ خودکش حملے ہوئے اور درجنوں افراد لقمہ اجل بنے، مجھے اللہ نے اپنی حفظ وامان میں رکھا۔ یہ واقعات آج بھی میرے دل و دفاغ میں تازہ ہیں

خاص طور پر 8اگست 2013 کا دن میں آج تک نہیں بھولا ہوں جب صبح کے وقت ایک پولیس افسر کا ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا اور مجھے اس واقعہ کی کوریج کے لئے موقع پر پہنچنا تھا، لائیو سسٹم کے ساتھ موقع پر پہنچ کر کورہج کی ، جس کے بعد آفس سے یہ ہداہت ملی کہ پولیس لائن پہنچ جائیں پولیس افسر کی نماز جنازہ کور کریں۔ میں اپنی کوریج ٹیم کے ساتھ پولیس لائن پہنچا۔ پولیس لائن مسجد کے صحن میں نماز جنازہ کہ تیاریاں ہورہی تھیں پولیس آفسران کی آمد جاری تھی میرے سیٹلائٹ انجیئیر ارسلان علی نے لائیو سسٹم کنکٹ کیا میرے کیمرہ مین اکمی راجر نے کیمرہ اور ٹرائی پوڈ لگادئیے اور ہمیں بتایا گیا کہ بس کچھ ہی دیر میں نماز جنازہ کی ادائیگی ہوگی ۔۔۔۔ اسی دوران ایک بڑی آواز آئی ، مسجد کے مین گیٹ پر خود کش دھماکا ہوا جہاں پولیس افسران موجود تھے دیگر افسران کے استقبال میں کھڑے تھے اور باقی لوگ ہم میڈیا ٹیموں سمیت صحن میں موجود تھے۔ دھماکے کے ساتھ ہی گرد دھول اور دھواں اٹھنے لگا اس کے فورا بعد افراتفریح پھیل گئی مسجد کے صحن میں موجود افراد جان بچانے کے لئے ادھر ادھر چپنے کی کوشش کرتے نظر آئے غیر یقینی صورتحال تھی گویا سب کو موت قریب سے نظر آرہا تھا ابتدائی طور پر کسی کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ہوا کیا، میں نے بھی خود کو محفوظ سمجھنے نے فورا بعد اپنے آفس فون کرکے انہیں دھماکے کی اطلاع دی اور ابتدائی ٹکرز لکھوادئیے تاکہ اسٹوری بریک ہو کچھ لمحے کے بعد جب صورتحال نارمل محسوس کیا تو دیکھا پورا منظر ہی بدل گیا ہے،مسجد کا گیٹ مقتل گاہ بناہوا ہے۔۔۔۔ مسجد کے اندر اور باہر کی جانب خود میں لت پت لاشیں ہی لاشیں پڑی نظر آئیں ، ہر طرف تباہی کے مناظر تھے اور فضا میں بارود کی بو تھی، اس وقت اپنی آنکھوں دیکھا ایک ایک منظر آج بھی مجھے یاد ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔ بس قصہ مختصر دن بھر اس واقعہ کی کوریج کے بعد گھر پہنچا لیکن میرا دل و دماغ گویا وہیں پہ رہ گئے ہیں، وہ منظر وہ زمین پر پڑی لاشیں نظروں کے سامنے تھیں،،، اس رات میں سکون سے سو نہیں سکا،،، عجیت سی کیفیت میں تھا ،، شروع شروع میں آس پاس جب بھی کوئی آواز آتی تھی ایسی کسی پٹاخے کی یا غبارہ پھٹنے کی یا کسی چیز کے فرش پر گرنے کی تو مجھے وہ کوئی بڑی آواز محسوس ہوتی تھی اور میں فورا اسی طرف متوجہ ہو جاتا تھا کہ کیا ہوا۔۔۔۔
۔اس واقعہ کے ٹھیک دو سال بعد ۔ 8 اگست 2016 کی صبح کو بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کا ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا ، اس کی میت سول اسپتال منتقل کی گئی میں بھی حسب معمول اس واقعہ کی کوریج کے لئے اسپتال پہنچا اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی ، میں گلی سے انہی وکلا کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اسی دوران تقریبا میرے 100میڑ کے فاصلے پر زوردار خود کش دھماکا ہوا، جیسے زمین لرز اٹھا ہر طرف چیخ وپکار کی آواز تھی قیامت کا منظر تھا۔۔۔۔۔۔ اس واقعہ کو بھی بیان کروں تو وقت لگے گا، برحال میں نے سارا دن اس واقعہ کی رپورٹنگ لے بعد آفس پہنچا اور گھر شام کو گھر آگیا لیکن اس واقعہ پر بہت افسوس ہوا ،،، جیتے جاگتے انسانوں کو سامنے مرتے دیکھ کر میرا دل بہت افسردہ تھا اور کہیں دنوں تک مجھے ایسا محسوس ہوا میں اسی ٹراما میں ہوں ،،،،،،

وقت کے ساتھ ساتھ میری اس کیفیت میں کمی آئی لیکن اتنے بڑے واقعات کا رونما ہونا اور ان دھماکوں کی آوازیں وہ چیخ وپکار وہ خون میں لت پت میتیں وہ قیامت صغرا کے مناظر مجھے آج بھی یاد ہیں ، صحافت اپنی جگہ بحیثیت انسان آج بھی جب یہ درد ناک واقعات اور تکلیف دہ لمحات یاد آتے ہیں تو رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ آج بھی جب بھی اس نوعیت کی کسی کوریج پہ جاتا ہوں ، یا کہیں پہ رش زیادہ ہوتاہے

ایکسرپیس ٹی وی کے سینئر کیمرہ مین شاہد مختار بھی 2010 کو 27 رمضان یوم قدیس ریلی میں خود کش دھماکے میں زخمی ہوئے تھے ان کا کہنا ہے کہ مجھے ڈاکٹروں نے تقریبا مردہ قرار دیا دیئے تھے بس اللہ نے مجھے زندگی دینی تھے اتنے سال گزر جانے کے باوجود آج بھی مجھے وہ قیامت خیزلمحہ یاد ہیں آج بھی کئی رش دیکھتا ہوں یا گھر پر کوئی زور سے دروزاہ بنا دیتا تھے تومیں کمپنا شروع کردیتا ہم کبھی فائرنگ یا دھماکے دیتے ہیں توہ وقتی طور پر توکچھ دیر بعد بہتر ہوجاتے ہیں لیکن ان کے اثرات ہمیشہ کیلئے ہمارے دماغ میں رہے جاتے ہیں

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سابق صدر اور سینئر صحافی شہزادہ ذالفقار کا کہنا ہے کہ صحافی کا کام ہی سارا سٹریس کا ہوتا ہے اس کی سٹریس کئی قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جا کے لاشیں دیکھتے ہیں خون دیکھتا ہے قتل دیکھتا ہے کبھی وہ دیکھتا ہے کہ ایک باپ نے اپنے بیوی اور معصوم بچوں کر قتل کرکےاپنے اپ کو گولی مار دی ایک وہ دیکھتا ظاہر ہے وہ بھی تو انسان ہے وہ ان بچوں میں اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں اپنی فیملی کو دیکھتا ہے حالانکہ باقی ملکوں میں جو کوئی کنفلکٹ ایریا میں جائے تو کنفلکٹ ایریا میں خاص وہ جنگ میں صورتحال کی رپورٹرنگ کے بعد کچھ عرصے کے لیے انہیں چھٹیاں دے دی جاتی ہے تاکہ وہ اس سٹریس سے نکلے اور اپنے فیملی کے ساتھ وقت گزارے اس کا علاج کرایا جاتا ہے اوراس صحافی کو سائیکالوجسٹ کے لئے بیج دیا جاتا ہے یہاں ایسے کوئی چیز نہیں ہے سیئنر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تو ایک دن دھماکہ ہوتا ہے 14 سے 16 گھنٹے کی ڈیوٹی کرتا اگلے دن پر ایسی ہسپتال میں جاکر ان زخمی کو دیکھ پر وہی دھماکے کے ملٹری سٹریس سے گزارتا ہے ہم جب بھی کسی صحافی کی تعزیتی ریفرنس کرتے ہیں وہ زیادہ صحافی موت کی وجہ ہی ملٹری سٹریس ہوتا کبھی کسی پارٹی کا دباو ہوتا کبھی کسی کالعدم تنظیم کا سیٹریس ہوتا ہے کہ ہماری خبر ایسی نہیں ایسے چھاپوں یا نشر کوتو صحافی ہمیشہ ہی سٹریس میں کام کرتا ہے سابق صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں صحافیوں کی جو ملٹری ہیلتھ کا علاج کرنا چاہئے چائیے وہ آرگنائزیشن ، حکومت ہوں یا صحافتی تنظیمیں ہوں ریفریشر کورس ہونے چاہئے خاص کر کمپلیٹ زون میں کرنے والے صحافی کیلئے تو یہ بہت ضروری ہیں

ماہر نفسیات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مجیب اللہ دوتانی کا کہنا ہے
عمومی جسمانی صحت کے علاوہ بہتر ذہنی صحت بھی ہر انسان کابنیادی حق ہے،،لیکن کئی وجوہات اور مسائل کی وجہ سے انسان کی ذہنی صحت دن بدن متاثر ہورہی ہے،،،جو کہ ایک صحت مند دماغ ہی روز مرہ زندگی میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کے قابل بناتا ہے،ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحافی مشکل حالات میں رہتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، آئے روز امن وامان کی خراب صورتحال خاص طور پر بم دھماکوں ، فائرنگ اور دیگر دھمکیوں کی وجہ سے بیشتر صحافی ذہنی دباو میں مبتلا ہیں ،،،،اس کے علاوہ صوبے کے صحافیوں کو بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے،، ان حالات میں صحافیوں ذہنی دباو میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے،،،

کوئٹہ سمیت دیگر الیکٹرانک اور پریس میڈیا سے وابستہ کئی صحافیوں اور رپورٹرز نے تخریب کاری، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور خود کش حملوں سمیت جرائم ودیگر متعدد واقعات دن اور رات کسی بھی وقت رپورٹ کئے ہیں ، ایسے میں اکثر اوقات نیند پوری نہیں ہوتی ہے، یا کام کا پریشر ہوتا ہے یا ٹائم لائن کو میٹ کرنا ہوتا ہے۔۔ یا پھر کم آمدن کی وجہ سے معاشی اور گھریلو مسائل بھی ہوتے ہیں ایسے کہی وجوہات ہیں جن کے اثرات میڈیا ورکرز کے صحت پر پڑے ہیں ، طبی مسائل کے شکار ہونے کی شکایات عام ہے بلڈ پریشر اور خاص طور پر ذہنی صحت پر ان تمام صورتحال کا گہرا اثر پڑا ہے اور پڑرہا ہے اب چونکہ اسی ماحول کےاندر رہتے ہوئے کام کررہے ہیں تو اس سنجیدہ معاملے کی حساسیت اس طرح محسوس نہیں ہورہا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں