حکومت کا4اپریل سے پروازوں کی بحالی پر غور

اسلام آباد:وفاقی حکومت 4 اپریل کے بعد سے پروازوں کا سلسلہ بحال کرنے پر غور کررہی ہے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 4 سے 11 اپریل کے لیے ایئرلائن آپریشنل اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پی) بھی جاری کردیئے ہیں.رپورٹ کے مطابق محکمہ ہوا بازی کے ترجمان عبدالستار کھوکھر کا کہنا ہے کہ پروازوں کی بحالی کا معاملہ زیرغور ہے تاہم اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ سی اے اے نے مسافروں اور عملے کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں تا کہ کووِڈ19 سے منسلک خطرہ کم کیا جاسکے اور باقاعدہ پروازیں بحال کرنے کے فیصلے کی صورت میں کچھ احتیاط اقدامات تجویز کیے ہیں.یاد رہے کہ حکومت نے 21 مارچ تک کے لیے تمام بین الاقوامی مسافر پروازوں کے ساتھ ساتھ چارٹرڈ اور نجی پروازیں معطل کردی تھیں ایس او پی کے تحت جہاز کو مسافروں کی بورڈنگ سے قبل ہر اسٹیشن پر سی اے اے کے وضع کردہ قواعد کے تحت جراثیم سے پاک کیا جائے گا.اس ضمن میں مسافروں کی صحت کے حوالے ڈیکلیئریشن فارم سی اے اے کی ویب سائٹ، سوشل میڈیا اور ایئر لائن کی ویب سائٹ کے ذریعے پاکستان آنے والے تمام مسافروں کو دیا جائے گامسافروں کی صحت کے ڈکلیئریشن فارمز کو مکمل کرنا آپریٹرز کی ذمہ داری ہوگی جس کے لیے فارمز تقسیم کرنا اور بار بار ہدایات کو دہرایا جائے گا.یہ فارم جہاز میں بیٹھنے سے قبل تمام مسافروں کے لیے بھرنا اور اس پر دستخط کرنا ضروری ہوگا اور بچوں یا معذور افراد کی صورت میں ان کے سرپرست بھریں گے اور سب سے ضروری مسافروں کو بورڈنگ سے قبل کووڈ19 کے لیے جسم کے درجہ حرارت کی پیمائش کرنے والے آلات سے اسکین کیا جائے گا.علاوہ ازیں ایک سیٹ کے فاصلے سے بورڈنگ پاس جاری کیے جائیں گے تاہم جب اس طریقے سے نشتیں پر ہوجائیں تو ساتھ ساتھ نشستوں کو بھی معمول کے طریقہ کار کے تحت پر کیا جائے گا مسافروں کی بورڈنگ قطاروں یا زون کے حساب ہوگی تا کہ تجویز کردہ فاصلہ برقرار رہے، پاکستان کا سفر کرنے والے مسافروں کو ان ہدایات پر عمل کرنا پڑے گا.اس کے ساتھ تمام مسافر پروازوں کے دوران سرجیکل ماسک پہنے ہوئے ہوں گے اور جس مسافر کو جو نشست دی جائے وہ اسی پر بیٹھے گا کسی بھی صورت نشست تبدیل نہیں کی جاسکتی.مزید یہ کہ تمام مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھے رہنے کے پابند ہوں گے اور انہیں سفر کے دوران جہاز میں نقل و حرکت یا اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں ہوگی

50% LikesVS
50% Dislikes

Leave a Reply