محکوم قوموں کی زبانوں کو وہ درجہ نہیں دیا جارہا جو ان کا حق ہے، نصراللہ زیرے

کو ئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ورکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ مادری زبان کو علمی، دفتری، سرکاری، عدالتی زبان کا درجہ دینا اور اس کیلئے عملی جدوجہد کرنا ہر فرد کا قومی فریضہ ہے اورمادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے 21فروری بروز اتوار کو سہہ پہر 2بجے میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار میں پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام مرکزی تقریب منعقدہوگی جس سے پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور پارٹی کے دیگر مرکزی وصوبائی رہنماء خطاب کرینگے۔ اس سلسلے میں عوام سے اپیل اور پارٹی کارکنوں کی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ بروقت اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تختانی بائی پاس علاقائی کمیٹی کے توسیع اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے علاقائی سیکرٹری حمد اللہ بڑیچ، سینئر معاون سیکرٹری نعیم اچکزئی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ نواں کلی علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے ضلعی ڈپٹی سیکرٹری دوست محمد ہنہ وال، راحت خان بازئی اور باچا خان کاکڑنے خطاب کیا۔ انہو ں نے کہا کہ پشتو زبان پشتون غیور ملت کی قومی زبان ہے جس کی اہمیت وافادیت کا اجاگر کرنا پشتونخوامیپ سمیت پشتون افغان ملت کے ہر فرد کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان کی خدمت کیلئے اپنی صلاحیتوں کوبروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قیام کے بعد پشتون،بلوچ،سندھی،سرائیکی اور بنگالی اقوام نے اپنے مادری زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینے اور اپنے قومی وحدتوں میں مادری زبانوں کو سرکاری ودفتری زبانیں قرا ر دینے کیلئے بھرپور جدوجہد شروع کی اور قومی تحریکوں نے اس مقصد کے حصول کیلئے پر افتخار قربانیاں کیں لیکن بدقسمتی سے آج بھی پشتو ودیگر محکوم قوموں کی زبانوں کو وہ درجہ نہیں دیا جارہا جو ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگالی عوام اور طلباء کا خون اور قربانیاں راہیگاں نہیں گئی کیونکہ ان کی قربانیوں کی بدولت ہی اقوام متحدہ نے 21فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن قرار دیکر زبانوں کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرنے کیلئے تاریخی اقدام اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد قوموں کو مادری زبانوں میں نصاب تعلیم مرتب کرنے اور ان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا آئینی حق حاصل ہوا ہے اور پشتونخوامیپ نے اپنے سابقہ دور حکومت میں اپنے اتحادی جماعتوں کے ساتھ ملکر صوبے میں مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بناکرپرائمری کی سطح تک نصاب تعلیم میں شامل کیا۔انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ جلوس کی شکل میں مرکزی تقریب میں مکمل نظم وضبط کے ساتھ اپنی بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں