کچھی کینال:28کروڑکرپشن کے الزام میں ڈپٹی ڈائریکٹر و انجنیئر معطل

ڈیرہ مراد جمالی (آن لائن) کچھی کینال میں اربوں اورپٹ فیڈرکینال میں 59کروڑ کی میگاکرپشن کے بعد واٹر مینجمنٹ زراعت نصیرآباد میں 28کروڑ کی بے لگام کرپشن کے الزام میں ڈپٹی ڈائریکڑ واٹر مینجمنٹ زراعت اپنے انجینئر سمیت معطل صوبائی حکومت نے زراعت کے فروغ کیلئے 30واٹر کورس پختہ کرنے کیلئے 28کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کیئے تھے نئے تعینات ہونے والے ڈ پٹی ڈائریکڑ واٹر منیجمنٹ زراعت بھی نیب زدہ نکلے جن کے خلاف مختلف تحقیقاتی ادارے کی جانب سے کروڑوں روپے کرپشن کی تحقیقات چل رہی ہے تفصیلات کے مطابق ضلع نصیرآبادکو کرپشن کا استادی گھر کہاجاتاہے کچھی کینال منصوبے اور 2010کے سیلاب میں میگا کرپشن کے بعد پٹ فیڈر کینال کی بحالی میں اربوں روپے پٹ فیڈرکینال توسیعی منصوبے میں 59کروڑ کی میگاکرپشن کے بعد نصیرآباد میں کرپشن میں محکمہ زراعت نے میدان مار لیا ہے واٹر مینجمنٹ زراعت نصیرآباد میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے نصیرآباد میں زراعت کے فروغ کیلئے زرعی پانی کی بچت کیلئے 30واٹر کورس پختہ کرنے کیلئے ابتدائی طور پر 28کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کیئے تھے وزیراعلی بلوچستان چیف سیکریڑی بلوچستان کو کسانوں زمینداروں کی جانب سے شکایات موصول ہونے پر تحقیقاتی ٹیم کو نصیرآباد روانہ کیا گیا تھا جس کی رپورٹ کے مطابق 28کروڑ کی میگا کرپشن کے الزام میں ڈپٹی ڈائریکڑ واٹر مینجمنٹ زراعت عبدالقدوس مینگل کو انجینئر نادر علی سمیت معطل کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے زرائع کے مطابق نئے تعینات ہونے والے ڈ پٹی ڈائریکڑ واٹر منیجمنٹ زراعت نصیرآباد محمد انور عادل شیخ پر بھی اس سے قبل تعیناتی پر کروڑوں روپے کے غبن کے الزام میں بھی نیب بلوچستان سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں نئے تعیناتی ہونے والے ڈ پٹی ڈائریکڑ واٹر مینجمنٹ زراعت نصیرآباد کے نیب زدہ نکلنے پر نصیرآباد کے کسان زمیندار سیاسی سماجی حلقے دنگ رہے گئے ہیں واضح رہے کہ اس وقت نصف درجن سرکاری محکموں میں نیب زدہ آفیسران تعنیات ہیں جن پر کروڑوں روپے غبن کے الزامات کے باوجود سرکاری سہولیات کے فائدے اٹھاتے رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں