تیل بردار مزدوروں پر ایرانی فورسز کی فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں، رحمت بلوچ
نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر و سابق صوبائی وزیر رحمت صالح بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سیستان بلوچستان کے ساتھ متصل بارڈر پر ایرانی فورسز کی جانب سے نہتے بلوچ مزدوروں پر بلا اشتعال فائرنگ میں 30 سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف میں آباد لاکھوں بلوچوں کا ذریعہ معاش تیل کے کاروبار سے جڑا ہوا ہے جس کی حالیہ بندش سے بیک وقت لاکھوں نوجوان بے روزگار اور ان کے گھروں میں چھولے مانند پڑگئے ہیں۔ ابھی یہ آفت گزری ہی نہیں تھی کہ بارڈر پر نہتے مزدوروں کا قتل عام کیا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے اس کے نتیجے میں پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کے دونوں اطراف کے شہری نشانہ بنے ہیں، ہمیں حیرت ہیں کہ ابھی تک پاکستانی صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس واقعہ کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ ہم سرحد کے دونوں جانب حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس افسوسناک واقعہ کی اعلی سطح تحقیقات کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث اہلکاروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف ملکی قوانین کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
اور آخر میں نیشنل پارٹی مشکل کی اس گھڑی میں اس واقعہ میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمی ہونے والے افراد کی لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتی ہیں


