میدانِ کھرڑی: سندھ سے بلوچوں کی محبت کا داستان

تحریر: ریاض بلوچ


سندھ میں کلہوڑا (عباسی) دورِ حکومت کے آخری ایام میں جب حکمرانوں کی جانب سے بار بار ٹالپر سرداروں پر دھوکے سے حملے کیے گئے، یکے بعد دیگرے ان کے سرداروں کو قتل کیا گیا، تو آخرکار ٹالپروں نے کلہوڑا حکومت کے خلاف جنگ کا فیصلہ کیا۔ 1783ء میں سندھ کے علاقے ہالانی میں دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں، اور ٹالپروں نے عباسیوں کو شکست دے کر اپنی حکومت کی بنیاد رکھی۔
ٹالپروں کی حکمرانی، جنہیں سندھ کی تاریخ میں "میرن جی صاحبی” کے نام سے بھی لکھا جاتا ہے، کے آغاز کے ساتھ ہی ٹالپروں نے سندھ کی سرحدوں کو وسیع کیا۔ عمرکوٹ اور اس کے نواحی علاقے جودھپور کے راجاؤں کے قبضے میں تھے، میروں نے یہ علاقہ دوبارہ سندھ میں شامل کر لیا اور مستقبل میں کسی فوج کی چڑھائی کو روکنے کے لیے وہاں مضبوط قلعے تعمیر کروائے۔ شکارپور، جو احمد شاہ ابدالی کے دور 1165 ہجری بمطابق 1751-52ء سے افغانستان کے زیرِ قبضہ تھا، اسے 72 برس بعد 1824ء میں ایک بار پھر سندھ میں شامل کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ خان آف قلات سے کراچی واپس لے کر سندھ میں شامل کر لیا گیا۔
1900ع میں لکھی گئی فارسی تصنیف ’لُب تاریخ سندھ‘ جس کا سندھی ترجمہ حافظ خیر محمد اوحدی نے کیا۔ اس کتاب کے مطابق:
” سندھ کا جو رقبہ میاں غلام شاہ کلہوڑہ کے جانشینوں کے ہاتهوں نکل چکا تها، وہ تمام رقبہ میروں نے دوبارہ حاصل کیا۔ جیسا کہ بهاول پور کے نواب سے سبزل کوٹ، قلات کے خان سے کراچی اور اس کے آس پاس کا علاقہ، افغانوں سے شکارپور اور اس نواحی علاقے، بهُج کے راجا سے لکھپت اور بست، اور جودھپور کے راجا سے عمر کوٹ اور ریگستان وغیرہ۔ مطلب سندھ کا گنوائے گئے تمام حصے میر صاحبان نے تلوار کے زور پر دوبارہ حاصل کئے ۔“ (1)
یہی بات بعد میں مولائی شیدائی و دیگر مؤرخین نے دہرائی ہے۔
بہرحال، میروں کو سب سے زیادہ پریشانی شکارپور کی آزادی کو برقرار رکھنے میں پیش آئی۔ یہ علاقہ نہ صرف ہندوستان کی جانب پیش قدمی کرنے کا اہم گزرگاہ تھا بلکہ ایک منافع بخش کاروباری مرکز بھی تھا۔ اس شہر کی معیشت پر مکمل طور پر قابض ہندو تاجر افغان حکمرانوں سے خائف ہونے کے باعث میروں سے زیادہ افغان حکمرانوں کی حامی تھی، جن سے افغان مالی فوائد حاصل کرتے رہے تهے ۔ اس لیے گاہے بگاہے انہیں شکارپور کی یاد ستاتی اور وہ افغان لشکر کے ساتھ شکارپور پر حملہ آور ہوتے۔
یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی باقاعدہ مضبوط پنجے گاڑنے کے بعد روس کی ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کے لیے بے چین ہو چکی تھی، اور افغانستان خانہ جنگی کا شکار تھا۔ انگریز سرکار افغانستان میں مداخلت کر کے اپنے حامی شاہ شجاع کو برسراقتدار لانے کے لیے اس کی کھلی پشت پناہی کر رہی تھی، لیکن افغان عوام شاہ شجاع کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ اسی کشمکش میں شاہ شجاع درانی، رنجیت سنگھ کے ہاتھوں کوہِ نور ہیرے سمیت مال و دولت لٹا کر مالی طور پر تقریباً دیوالیہ اور دربدر ہو چکا تھا اور گاہے بگاہے شکارپور پر حملہ کر کے پیسے طلب کرتا۔
سندھ کے حکمران میر ٹالپروں کو یہ معلوم تھا کہ انگریز سرکار اس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں رنجیت سنگھ بھی انگریز سرکار کی حمایت حاصل کر کے سندھ کے لیے ایک خطرہ بن چکا تھا، اس لیے وہ شاہ شجاع سے جنگ کرنے کے بجائے اسے کچھ نہ کچھ رقم دے کر چلتا کرتے تھے۔ ایک بار انہوں نے شاہ شجاع کو روک کر افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ کو اطلاع دے دی اور بڑی مہارت سے شاہ شجاع کو شکارپور چھوڑنے پر مجبور کیا۔ لیکن چونکہ شکارپور میں افغان بادشاہوں کے آباد کردہ تاجر بھی ٹالپروں کے خلاف تھے اور شاہ شجاع کے لیے مخبری کرتے رہتے تھے، اس لیے شاہ شجاع 1833ء کے آخر میں ایک بار پھر شکارپور وارد ہوا۔
پہلے تو میر ٹالپروں نے شاہ شجاع کو مہمان بنا کر بٹھایا اور چالیس ہزار روپے نقد رقم بھی فراہم کی، لیکن جب وہ افغانستان پر حملہ آور ہونے کے لیے زیادہ سے زیادہ نقدی و دیگر سامان فراہم کرنے کے مطالبات کرنے لگا اور میر ٹالپروں کی جانب سے شکارپور میں مقرر کردہ نائب و عملداروں کو معزول کر کے شکارپور پر باقاعدہ اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرنے لگا، تو میروں نے بھی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔
شاہ شجاع کے مقابلے کے لیے میروں کی جانب سے سب سے پہلے میر عالم مری میدان میں آئے۔ گوسڑجی کے مقام پر شاہ شجاع کے کمانڈر ہدایت اللہ پٹھان اور میر عالم مری کا سامنا ہوا۔ پہلے پہل تو بلوچ سپاہیوں کا پلڑا بھاری رہا، لیکن شاہ شجاع کی فوج کے پاس توپ جیسا جدید اسلحہ تھا، جو غالباً انہیں انگریز سرکار نے فراہم کیا تھا۔ پھر اچانک میر عالم مری پر توپ سے حملہ کیا گیا، جس سے وہ کئی ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے۔ میر عالم مری اپنی بہادری و جنگی ہنر کے حوالے سے مشہور تھے۔ ان کی شہادت پر دشمن کے حامی مؤرخ منشی عطا محمد شکارپوری نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ میر عالم مری جیسا بہادر انسان قتل کرنے کے لائق نہیں تھا، لیکن تقدیر کا فیصلہ یہی تھا۔
اسی جنگ میں شاہ شجاع کی فوج سے لڑتے ہوئے میر عالم مری کے قریبی ساتھی شیر محمد بُڑدی کی ٹانگ تلوار کے وار سے کٹ گئی۔ وہ اپنی ٹانگ کا کٹا ہوا ٹکڑا لے کر گھوڑے پر سوار ہوا اور سیدھا جہان خان مری کے پاس پہنچا اور اس کو میر عالم مری کی شہادت کی اطلاع دے دی۔
اپنے والد کی شہادت کی خبر سنتے ہی جہان خان مری طیش میں آ گئے اور بدلہ لینے کے لیے اسی وقت شاہ شجاع کی فوج میں گھس گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے تلوار کے وار سے ہدایت اللہ پٹھان کو کئی ساتھیوں سمیت قتل کر دیا۔
منشی عطا محمد شکارپوری اپنی تصنیف تاریخ تازہ نوائے معارک میں لکھتے ہیں:
”عالم خان مری کا لشکر بہت بڑا تھا، جبکہ ہدایت اللہ پٹھان کے پاس کچھ ہی سوار تھے۔ اب چونکہ جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، وہ میدان میں آ کر مری کی فوج سے دوبدو ہوا۔ خدا کی قدرت کہ اچانک عالم خان مری پر توپ کا گولہ گرا، جس سے ان کی موت ہو گئی۔ عالم خان مری کے مارے جانے کے بعد اس کا بیٹا جہان خان اپنے والد کی موت دیکھ کر ہوش گنوا بیٹھا اور ایک دم ہدایت اللہ پٹھان پر حملہ آور ہوا۔ حاجی ہدایت اللہ اس کی تلوار کا شکار ہو کر قتل ہو گیا۔ باقی لشکر، جس میں کچھ ہی سوار تھے، تتر بتر ہو گیا۔“ (2)
محقق ڈاکٹر قادر بخش مگسی اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے میں لکھتے ہیں: ”شہید میر عالم مری ٹنڈو نہال میں مدفون ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
“ان کی آخری آرام گاہ دیہہ قناصرہ تحصیل کوٹ ڈیجی کے تاریخی قبرستان شاہ مقصودہ میں موجود ہے، جسے شاہ مشکودہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی قبر کے قریب دیگر قبریں بھی موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک ان کے فرزند جہان خان مری کی ہے، جبکہ دوسری قبر میر عالم مری کے جنگی ساتھی شیر محمد بُڑدی کی ہے۔“ (3)
جہان خان مری کے ہاتھوں ہدایت اللہ پٹھان کی ہلاکت کے بعد شاہ شجاع نے سمندر خان کو کمانڈر بنا کر تین ہزار سپاہیوں کے ہمراہ میر ٹالپوروں کی فوج سے مقابلہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ شاہ شجاع کی فوج جنوری 1834ء میں سکھر کے قریب کھرڑی نامی میدان میں پہنچ گئی اور یہاں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سندھ کے بلوچ سپاہی موجود تھے۔ اس جنگ کو سندھ کی تاریخ میں "کھرڑی کی جنگ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کھرڑی کے محلِ وقوع کے بارے میں کتاب جنگنامہ میں لکھا ہے کہ:
”دریائے سندھ سے شمال اور قدیم سکھر شہر کے جنوب کی اراضی جنگ کا میدان تھی۔ موجودہ جیل کے شمال کی جانب واقع پولیس تھانہ، جو اب تک کھڑری والا تھانہ کہلاتا ہے، اُس کھرڑی کے میدان کی ایک یادگار ہے۔ اس وقت جو اراضی کھرڑی کے نام سے جانی جاتی ہے، اس کے حدود یہ ہیں: جنوب میں دریا، مشرق کی جانب دنگ شاہ جو اوتارو، بالی جو مندر اور نئے سکھر کی جانب بڑی سڑک، اور پولیس تھانے سے قدرے شمال مغرب کا حصہ۔“ (4)
جب ہم سندھ میں ٹالپر دور کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہالانی سے لے کر کھرڑی اور میانی سے دوآبے تک تمام جنگوں میں زیادہ تر بلوچ قبائل ہی نمایاں نظر آتے ہیں۔ کھرڑی کے مقام پر شاہ شجاع کا مقابلہ کرنے والی فوج میں سید کاظم شاہ اور سردار محمد ہاشم خاصخیلی کے علاوہ باقی تمام جوان لغاری، نظامانی، مری، جسکانی، بُڑدی، بگٹی، کھوسہ، کہیری، رند، چانڈیو و دیگر بلوچ قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔
سندھ کے لوک شاعر آندل فقیر ماچھی نے بھی اپنی شاعری میں تصدیق کی ہے کہ کھرڑی کی جنگ میں بلوچ قبائل نے بھرپور شرکت کی۔
مورخین کے مطابق اس جنگ میں بلوچ سپاہی ڈٹ کر لڑے، لیکن کچھ ایسے سپاہی بھی تھے جو توپوں کے باعث شدید نقصان دیکھ کر میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ تاہم جہان خان مری اور اس کے ساتھیوں نے موت کو سامنے دیکھ کر بھی مادرِ وطن پر قربان ہونے کا اٹل فیصلہ کر لیا تھا۔ ان جوانوں نے ایسی بہادری دکھائی کہ دشمن بھی آفرین کہنے پر مجبور ہو گیا۔
منشی عطا محمد شکارپوری، جو خود شاہ شجاع کے درباری مصنف تھے، اپنی تصنیف تازہ نوائے معارک میں لکھتے ہیں:
”جہان خان مری کی قیادت میں پچاس ساٹھ جوانوں کا ایک ٹولہ بلوچی روایات کے مطابق اپنی قمیصوں کے دامن باندھ کر بلند آواز میں نعرے لگاتے ہوئے اس پہاڑی کی جانب بڑھا جہاں شاہ شجاع کی فوج موجود تھی۔ ان نوجوانوں نے ایسی بہادری دکھائی کہ ہر شخص آفرین کرنے لگا، وہ نعرے لگاتے ہوئے اس پہاڑی کی جانب جا رہے تهے۔ اس فضول کوشش میں کئی بلوچوں کی جانوں ضیاع ہوا اور جہان خان بهی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔“ (5)

ڈاکٹر قادر بخش مگسی کی تحقیق کے مطابق شیر محمد بُڑدی، جس کی ایک ہفتہ قبل گوسڑجی میں تلوار سے ایک ٹانگ کٹ گئی تھی، زخمی پاؤں کے ساتھ کھرڑی کی جنگ میں شریک ہوا اور سندھ وطن کی محبت میں دشمن کے کئی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد شہید ہو گیا۔
اس جنگ میں اپنی دھرتی پر جان نثار کرنے والے شہداء کی تعداد کے بارے میں کوئی حتمی اعداد و شمار تاحال دستیاب نہیں ہیں، لیکن سندھی لوک شاعری کے مطابق صرف مری قبیلے کے آٹھ سو نوجوان اس جنگ میں شہید ہوئے۔ شاید یہی سبب ہے کہ سندھی زبان کے مشہور شاعر خلیفو نبی بخش نے اس جنگ کے حوالے سے مری قبیلے کی خاص تعریف کی ہے۔ وہ اپنی شاعری کے زریعے مریوں کی بہادری کو داد دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مری خوف کے نام سے ناآشنا ہیں، وہ اپنی ظاہری انسانی جسم میں شیر کا دل رکھتے ہیں۔
مورخین کے مطابق کھرڑی کے آس پاس کے علاقوں میں شہداء کی اجتماعی قبریں بھی موجود ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہداء کی تعداد ہزاروں میں تھی۔
اس جنگ میں بظاہر شاہ شجاع کی فوج کو کامیابی حاصل ہوئی، لیکن بلوچ جانثاروں کی شدید مزاحمت کے باعث ان کے حوصلے پست ہو چکے تھے۔ شاہ شجاع سمجھ چکا تھا کہ اگر وہ شکارپور پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو بھی گیا تو زیادہ دیر اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے وہ شکارپور پر قبضہ کرنے کی خواہش سے دستبردار ہو گیا۔ بعد ازاں ٹالپروں اور شاہ شجاع کے درمیان مذاکرات ہوئے اور شاہ شجاع بارہ لاکھ روپے لے کر واپس لوٹ گیا۔
سندھی زبان کے مشہور شاعر خلیفو نبی بخش لغاری نے اس جنگ کے واقعات کو اپنی شاعری میں محفوظ کیا۔ ان کے مطابق کھرڑی کا میدان چاول کی پکی پکائی دیگ نہیں ہے بلکہ خون یعنی قربانی کا طلبگار ہے ، کھرڑی، کھوٹے اور کھرے انسان کو پرکھنے کا پیمانہ ہے، اور یہ میدان بزدلوں سے دل لگی نہیں کرتا۔
ان کے مطابق کھرڑی کی جنگ میں شریک ہونے والے نوجوانوں کو گھر کی خواتین نے بھی حب الوطنی، بہادری اور ایثار کا درس دیا۔ ماؤں، بیویوں اور دیگر خواتین نے شہادت کو باعثِ فخر اور فرار کو کلنک قرار دیا۔
ماں نے بیٹے سے کہا کہ اگر تم سینے کے بجائے پیٹھ پر زخم کھا کر واپس آئے تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔ بیوی نے شوہر سے کہا کہ اگر میدانِ جنگ سے فرار ہو کر آئے تو میں تمہاری بیوی نہ رہوں گی۔ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اگر تم اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر واپس آئے تو پھر داڑھی مونچھ منڈوا دینا، کیوں کہ بزدل کے چہرے پر داڑهی نہیں جچتی۔

  1. خدا داد خان،لُب تاریخ سندھ، 1994ع، سندھی ادبی بورڈ جامشورو ص:72_171
  2. منشی عطا محمد شکارپوری، مترجم حکیم نیاز ہمایونی، تازن محرکن جی تاریخ،2005ع، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، ص: 119
  3. پروفیسرڈاکٹر قادر بخش مگسی، خلیفہ نبی بخش قاسم کی شاعری، 2022ع، کراڑ پبلیکیشن ٹنڈو محمد خان، ص: 311
  4. ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جنگنامہ، 1984ع، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، ص: 226
  5. منشی عطا محمد شکارپوری، مترجم حکیم نیاز ہمایونی، تازن محرکن جی تاریخ،2005ع، سندھی ادبی بورڈ جامشورو، ص: 119

اپنا تبصرہ بھیجیں