دو ہفتوں میں اسرائیلی حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کی 35 املاک مسمار
مقبوضہ بیت المقدس:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے رابطہ دفتراوچاکی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی حکام نے غیرقانونی قرار دے کر فلسطینی شہریوں کی 35 املاک مسمار کیں یا ان پرقبضہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اوچا کی طرف سے سولین تحفظ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں 16 فروری سے یکم مارچ تک فلسطینیوں کی املاک کی مسماری اور املاک پرقبضے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ مکانات مسماری اور املاک کے قبضے کے نتیجے میں 98 افراد بے گھر ہوئے۔ ان میں 53 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 60 افراد بالواسطہ طور پر متاثر ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری کو قابض صہیونی حکام نے فلسطینیوں کی 18 املاک غصب کیں۔ یہ تمام املاک بیت المقدس میں حمصہ البقعیہ میں قائم ہیں۔ املاک پرقبضے کے نتیجے میں 10 خاندان بے گھر ہوئے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں کے 36 بچوں سمیت 60 افراد شامل ہیں۔بیت المقدس میں العیساویہ اور راس العامود میں فلسطینیوں کے تین مکانات مسمار کیے گئے جس کے نتیجے میں 28 افراد بے گھر ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے 184 فلسطینیوں کو سرچ آپریشن میں گرفتار کیا۔ ان میں سے 158 افراد کا تعلق غرب اردن سے ہے۔


