لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی

اسلام آباد :لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی۔درخواست آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت آمنہ مسعود جنجوعہ نے دائر کی،ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخوراست میں کہاگیاکہ 2005 سے 2018 تک میں اپنے شوہر اور دیگر افراد کی بازیابی کیلئے متعدد درخواستیں دے چکی ہوں، لاپتہ افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اس وقت کیس کو اچانک نمٹا دی تھی، درخواست نمٹانے سے قبل کسی فریق کو نہیں سنا گیا تھا، کیس اچانک نمٹانا انصاف کے اصولوں کے خلاف تھا۔درخواست گزار کے مطابق 16 اکتوبر 2018 کو مسنگ پرسن کیس لاپتہ افراد کمیشن کے سپرد کردیا گیا، جس وقت کیس کمیشن کو بھجوایا گیا میں اس وقت ملک میں موجود نہیں تھی۔درخواست گزار کے مطابق لاپتہ افراد کمیشن نے 100 سے زائد افراد کو پیش کرنے کے احکامات جاری کیے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا، تاحال سینکڑوں خاندان اپنے پیاروں کی آمد کے منتظر ہیں۔درخواست گزار کے مطابق عدالت ان لاپتہ افراد کے نام جاری کرنے کا حکم دے جن کو کمیشن نے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ استدعا کی گئی کہ لاپتہ افراد کمیشن سے گزشتہ دس سال میں لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست طلب کی جائے، شہریوں کو لاپتہ کرنے والے افراد کے نام طلب کیے جائیں۔ استدعا کی گئی کہ کمیشن سے پوچھا جائے کتنے خاندانوں کو حکومت نے مالی فراہم کی، ثابت شدہ جبری لاپتہ افراد کے نام پبلک کیے جائیں۔ استدعا کی گئی کہ کمیشن سے پوچھا جائے کہ جبری گمشدگی کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ پرانے لاپتہ افراد کے مقدمات کمیشن کی بجائے سپریم کورٹ میں چلا کر انصاف فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں