مسلط حکومت عوام کی خدمت کرنے کی بجائے روزگار کے مواقع بھی چھین رہی ہے،عثمان کاکڑ

کوئٹہ :پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان خان کاکڑ، مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری سید عبدالقادر آغاایڈووکیٹ نے جونیئر ٹیچرز ایسوسی ایشن کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ، GTAآئینی کے احتجاجی کیمپ، گلوبل پارٹرنر شپ فور ایجوکیشن پروجیکٹ کے احتجاجی دھرنے اور محکمہ تعمیرات ومواصلات(C&W)کے برطرف کیئے گئے 386ملازمین کے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا گیا۔ اس موقع پر (ر)سنیٹر عثمان خان کاکڑ، سابق صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلط حکومت عوام کی خدمت کرنے کی بجائے روزگار اور ترقی وخوشحالی کے مواقع بھی چھین رہی ہے اور عوام کی خدمت جمہوری حکومت کا کام ہے،پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اپنے عوام کی جو خدمت کی ہے اس کا اعتراف ہمارے مخالفین بھی کررہے ہیں پشتونخوامیپ اپنے عوام کی خدمت کوجاری رکھے گی اوران کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کرتی رہیگی۔ صوبے کی سلیکٹڈ حکومت نہ صرف عوام دشمنی بلکہ اساتذہ دشمنی پر مبنی اقدامات بھی کررہی ہیں اور پشتونخوامیپ ان ناروا اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اساتذہ کے اس بھوک ہڑتالی کیمپ اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے مطالبات جن میں 50فیصد پروموشن کوٹہ کا مطالبہ ایک دیرینہ مطالبہ ہے جس پر عدالت نے بھی اپنا فیصلہ دیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے 50%پروموشن کوٹہ پر عملدرآمد نہ کرناخود بخود توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے جس کا معزز عدالت عالیہ کو نوٹس لینا چاہیے۔ 50%پرموشن کوٹہ اساتذہ کا حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا لہٰذا اس کیلئے ضروری ہے کہ مختلف شرائط اور حیلے وبہانے ترک کرکے فی الفورتادم بھوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹھے ان معزز اساتذہ کے مطالبات جن میں 50%پروموشن 23دسمبر 2006کے بلوچستان حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق عملدرآمد کیا جائے، حکومت پنجاب کی طرز پر جونیئر کیڈر کو گریڈ 14اور JET.PTI، ڈرائینگ ماسٹر وغیرہ کو گریڈ 16میں اپ گریڈ کیا جائے، 25%وفاق کے طرز پر یکم مارچ سے تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، صوبے بھر کے تمام اساتذہ کو یوٹیلٹی الاؤنس اور ہاؤس ریکوزیشن دیا جائے،شامل ہیں۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی ان تمام مطالبات کا مکمل طور پر حمایت کرتے ہوئے سلیکٹڈ حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ محکمہ تعلیم کے تادم بھوک ہڑتالی کیمپ پر بیٹھے معزز اساتذہ کے مطالبات کو فوراً تسلیم کریں۔بعد ازاں انہوں نے گلوبل پارٹرنر شپ فور ایجوکیشن پروجیکٹ کے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اظہار یکجہتی کیلئے دھرنے میں شرکت کی۔ مقررین نے کہاکہ آمرانہ قوتوں کی جانب سے جس طرح راتوں رات اس صوبے میں پارٹی بنائی گئی اور پھر انہیں انتخابات میں بدترین دھاندلی کے طور پر کامیاب کراکے اقتدار دیاگیا اور اس صوبے میں اصل اقتدار اب بھی ان ہی آمرانہ قوتوں کی ہے جبکہ سلیکٹڈ حکومت صرف کٹھ پتلی کے طرز پر بیٹھی ہے۔ اب عوام اور عوامی شعبوں کی ترقی وخوشحالی اُس وقت تک نہیں آسکتی جب تک یہاں جمہوری حکومت نہ ہو کیونکہ جمہوری حکومت عوام کے طاقت ووٹ کے بدولت آتی ہے۔ صوبے میں جتنا فنڈز وفاق کی جانب سے آرہا ہے اس کا ایک تہائی حصہ بھی عوام کے فلا ح وبہبود اور ان کے مسائل کے لیئے خرچ نہیں کیا جارہا ہے۔ اس صوبے کو منصوبہ بندی کے تحت مزید پیچھے دھکیلنے کیلئے کوشش کی جارہی ہے اور ایک ملک اور ملک سے باہر اس صوبے کی ایسی تصویر دکھائی جارہی ہے جس سے نہ صرف یہ صوبہ بلکہ یہاں کے عوام آئندہ دنوں میں مزید مشکلات وبحرانوں سے مدمقابل ہونگے۔مقررین نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ہر وقت عوامی مسائل کے حل کیلئے جدوجد کی ہے اور یہ جدوجہد آئندہ بھی کرتی رہیگی۔ انہو ں نے کہا کہ عوام کے نمائندوں کی کامیابی کو ہار میں بدل کر انہیں پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کا مقصد ہی یہی تھاکہ عوام کو ہر شعبہ زندگی میں بدترین مشکلات سے دوچار کرکے ان پر ترقی وخوشحالی کے دروازے بند کیئے جاسکے۔ عوام کے ووٹ کی تقدس کو پائمال کرکے اپن من پسند افراد کی پہلے پہل جماعت بنائی گئی اور پھر انہیں اقتدار میں لایا گیا آج عوام کو مہنگائی، چوری، ڈکیتی، لاقانونیت، اغواء برائے تاوان،امن وامان کی بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور عوام سے دو وقت کی روٹی تک چھینی جارہی ہے یہ صوبائی سلیکٹڈ حکومت عوام دشمنی پر مبنی اقدامات ہر شعبے میں کررہی ہیں اور اس کے خلاف عوام کے ہر شعبہ زندگی کو متحدہ ومنظم ہونا ہوگا اور اس سلیکٹڈ حکومت اور سلیکٹر کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا کیونکہ جب تک یکجاء نہیں ہونگے تب تک یہ سلیکٹڈ اور عوام دشمن حکومت ایسے ہی ظلم کرتی رہیگی۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ایم پی اے نصراللہ خان زیرے صوبائی اسمبلی کے فلور پر آپ لوگوں کے مسائل اٹھائینگے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ عوا م کو سلیکٹڈ حکومت سے نجات دلانے کیلئے عملی جدوجہد کررہی ہے عوام بھی اپنا فریضہ پورا کرتے ہوئے پی ڈی ایم کاساتھ دیں۔ انہوں نے گلوبل پارٹنر شپ فور ایجوکیشن پروجیکٹ کے اساتذہ،شرکاء کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے فی الفور ان کی مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ مقررین نے محکمہ تعمیرات ومواصلات کے برطرف کیئے گئے 386ملازمین کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی قانونی قوائد وضوابط کے ملازمین کو برطرف کرنا عوام دوستی، ملازم دوستی نہیں بلکہ یہ ملازم دشمنی پر مبنی اقدام ہے جس کی پشتونخوامیپ نہ صرف مذمت کرتی ہے بلکہ مطالبہ کرتی ہے کہ ان ملازمین کے برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔ #/s#

اپنا تبصرہ بھیجیں