افغان حکومت کی وسطی افغانستان میں فوج کشی کی مذمت کرتے ہیں، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی
کوئٹہ :ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں افغان حکومت کی طرف سے وسطی افغانستان کے پرامن علاقے بہسودپر فوج کشی کی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ عرصہ قبل وہاں پر تعینات ہونے والے پولیس سربراہ کے حکم پر پرامن مظاہرین پر بلاجواز فائرنگ کے نتیجے میں کئی نہتے افراد جام شہادت نوش کرچکے تھے جس کی انکو بری کے بعد پولیس چیف کو قصوروار پایا گیا اور اسکی برطرفی کی سفارش بھی کی گئی مگر اس متعصب پولیس آفیسر کے خلاف کارروائی کی بجائے علاقے میں قیام امن کیلئے کردار ادا کرنے والے کمانڈر علی پور کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا جو افغان حکومت کی چھوٹی اقوام کے ساتھ متعصبانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے کمانڈر علی پور علاقے میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف برسرپیکا اور طالبان کی جانب سے بے گناہ افراد کے اغوا اور ان کے قتل عام کے خلاف عرصہ سے جدوجہد کررہے ہیں بہسودسے کابل جانے والی شاہراہ جلدیزہزارہ قوم کیلئے قتل گاہ میں تبدیل ہوچکی ہے جبکہ افغانستان کے دیگر شاہراؤں پر آئے دن مذہبی وقومی انتہا پسند وں کی طرف سے ہزارہ قوم کا قتل عام روز کا معمول بن چکا ہے افغان حکومت ہزارہ قوم کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکامی کا شکار نظر آرہی ہے ایسے حالات میں عام عوام کا رہنے جان ومال کے تحفظ کیلئے ہتھیار اٹھانا فطری عمل ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان فاشٹ حکمران ملک کے اقتدار اور اعلی میں ملک کے دیگر اقوام کو حصہ وحق دینگے پر کسی طرح تیار نہیں ہرروز وہاں کے اقلیتوں کے خلاف سازشیں تیار کرکے انہیں اپنے حقوق کے متعلق سوچنے کا موقع تک نہیں دیتے ایسے میں اگر ملک کے کچھ باشعور اور قوم درست حلقے اپنے علاقے کی ترقی کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کرنا چاہتی ہے تو ان کے خلاف فوج کشی کرکے انہیں مثبت سرگرمیوں سے دور کیا جاتا ہے حالانکہ افغان حکومت جس قدر جلدی اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ افغانستان ایک کثیر القومی وکثیر الثانی مملکت ہے اتنی ہر تیزی سے وہاں قیام امن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت ملک میں ایسے حالات پیدا کریں کہ وہاں عوام،چھوٹی تو نہیں لسانی ومذہبی اقلتیں اپنے جان ومال کو محفوظ تصور کریں مگر افسوس کا مقام ہے کہ افغان حکومت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی بجائے مذہبی ولسانی اقلیتوں کے خلاف لشکر کشی کے مرتکب ہوکر ان کے قتل عام ونسل کشی کرنے والے مذہبی انتہا پسندی گروہوں کے خواہشات کا تکمیل میں لگے ہوئے ہیں بہبود کے علاقے میں جہاں پر مسلح فورسز اہلکار آگیا ہے وہاں پر ہر سال مسلح خانہ بدوش آکر امن وامان اور مقامی باشندوں کے املاک اور جان ومال کو نقصان پہنچا تے ہیں جبکہ اس علاقے میں مقامی ہزارہ اگر کسی طرف سفرپر چلے جاتے ہیں تو اس کے زندہ واپس آنا کسی معجزے سے کم نہیں افغان حکومت ریاستی رٹ کیلئے قتل ہشت گرد گروہوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کرتے اور انہیں کھلم کھلا ملک کے دیگر اقوام کے قتل عام کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اپنے جان ومال کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف ہر طرح کی طاقت کا استعمال کرکے ملک میں نسلی قومی اور لنسانی منافرت کی شدت میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر افغان حکومت کو اٹھانا پڑے گا اور موجودہ طرز عمل کی وجہ سے افغانستان کے تمام اقوام افغان حکومت کے خلاف ہوچکی ہے جبکہ افغان حکومت اٹھارویں یا انیس ویں صدی کے طرز پر کسی مخصوص قوم کے خلاف جابرانہ اقدام سے گریز کرکے تمام اقوام کو یکسا ں حقوق کی کہا ہے ہم ان کیلئے اقدامات کرنے کے پابند ہیں بیان میں توقع ظاہر کی گئی کہ کمانڈر علی پور کے خلاف فوری طور پر آپریشن بند کرکے ریاستی فورسز کو اصل دہشت گردوں کے خاتمہ کا ٹاسک دیا جائیگا۔


