جامعہ انتظامیہ کا لولی پاپ کھانے کا نہیں صرف تسلی کا ہے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان
کوئٹہ:جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے طرف سے بدھ کے روز بھی اپنے جائز مطالبات کے حق میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے جلسہ منعقد ہوا، شرکا جس اساتذہ کرام، آفیسرز اور ملازمین شامل تھے، آحتجاجی جلسے سے ایمپلائزایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی،اکیڈ مک سٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، جنرل سیکرٹری عبدالباقی جتک،نائب صدر فرید خان اچکزئی، پروفیسر شوکت ترین، اور حاجی عزیز لانگو نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے تحاشا مہنگائی اشیا صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں جب کہ ملازمین کی تنخواہوں کی مکمل ادائیگی نہیں کی جارہی ہیں، اب نوبت اس حد تک پہنچی ہے کہ نہ ملازمین اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں کفالت کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے بچے صحیح معنوں میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اس مہنگائی نے ملازمین کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے، جامعہ انتظامیہ ملازمین کو مسلسل لولی پاپ دے رہاہے اور مسلسل ہمارے ساتھ دروغ گوئی سے کام لیکر ملازمین کے جذبات سے کھیل رہی ہے۔ اس طرح یونیورسٹی نہیں چل سکتی ہے،۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے رہنماں کا کہنا تھاکہ اس وقت جامعہ میں چاہے جس شعبہ پر نظریں دوڑائی جائیں تووہاں ملازمین ہی کام کرتے ہیں اور جامعہ کی مشینری کو چلارہے ہیں تاہم اس کے باوجود جامعہ انتظامیہ ان ملازمین پر دستِ شفقت رکھنے کی بجائے مسلسل انہیں پریشان اور ذہنی اذیت میں مبتلا کررہاہے جو کہ ناانصافی اور ظلم کے مترادف ہے اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے جامعہ بلوچستان کے تینوں ایسوسی ایشنز نے فیصلہ کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پلیٹ فارم سے22 تا26مارچ تک احتجاج کا پہلا مرحلہ شروع کیا آگر ہمارے مطالبات کو حل نہیں کیا گیا تو 26 مارچ کو اپنا آئندہ کا سخت لائحہ عمل طے کرینگے اور اسوقت تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہونگے جب تک ملازمین کے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔مقررین نے کہاکہ جامعہ بلوچستان پر مسلط وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر اور خزانہ افیسر جامعہ کے اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کو درپیش سخت مالی، انتظامی اور تعلیمی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی جسکی وجہ سے جامعہ بلوچستان دن بدن مذید بحران کا شکار ھورہی ہے،انھوں نے کہا کہ جامعہ کے مسلط شدہ وائس چانسلر و پرو وائس چانسلر اور خزانہ افیسر جب جامعہ کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو انکو اس اس اہم پوزیشنز پر چمٹے رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہیں، انہوں نے گورنر و وزیر اعلی بلوچستان سے سے اپیل کی کہ وہ جامعہ کے مسلط شدہ وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر اور خزانہ افیسر کے بے ہسی کا فوری طور پر نوٹس لے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ 25 مارچ کو جامعہ کے اندر پھر احتجاجی مظاہرہ اور جلسہ منعقد ہوگا۔


