جی پی ای کے تحت تعینات کی گئی استاتذہ کے کنٹریکٹ میں ایک سال کی توسیع، صوبے کے 17لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائیگی،صوبائی وزراء کی مشترکہ پریس کانفرنس

کوئٹہ:صوبائی وزراء نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان نے گلوبل پارٹنر شپ فار ایجوکیشن کے تحت تعینات کی گئی استاتذہ کے کنٹریکٹ میں ایک سال کی توسیع جبکہ معاملے کے مستقل حل کے لئے چار رکنی کابینہ کمیٹی قائم کردی ہے جو وزیراعلیٰ کو 15روز میں سفارشات پیش کریگی، کابینہ نے صوبے کے 17لاکھ خاندانوں کو10لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کی منظور ی بھی دے دی ہے، اسپیکر کا عہدہ غیر جانبدار ہے وہ اسمبلی اجلاس میں سیاسی امور پررولنگ نہیں دے سکتے، کوئٹہ میں احتجاج کے لئے مخصوص جگہ مختص کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، موجودہ حکومت نے اب تک 100سے زائد قوانین منظور کئے ہیں جو گزشتہ حکومتوں نے نہیں کیا۔ یہ بات صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند، صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی، صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمن کھیتران نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ سردار یار محمد رند نے کہا کہ کابینہ نے ایک سال کے لئے1493 جی پی ای استاتذہ کے کنٹریکٹ میں توسیع کردی ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے اس معاملے کو مستقل طورپر حل کرنے کے لئے چار رکنی وزراء کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو 15روز میں اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیراعلیٰ کو پیش کریگی جنہیں آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائیگا،انہوں نے کہا کہ کمیٹی اپنی جانب سے پوری کوشش کریگی کہ اس معاملے میں جتنے بھی قانونی پیچیدگیاں ہیں انہیں دور کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیم کو روز اول سے ترجیح دی ہے گزشتہ ایک سال کے دوران جتنے اقدامات ہوئے جلد ہی انہیں بھی سامنے لایا جائیگا۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ کابینہ نے دو روزہ اجلاس کے دوران متعدد اہم فیصلے کئے ہیں بلوچستان کی9 جامعات کے لئے ماڈل ایکٹ منظور کیا جارہا ہے جس سے ان جامعات کے مسائل کو حل کیا جائیگا جامعہ بلوچستان کی سینڈیکیٹ کمیٹی میں 200افراد ہیں انکی تعداد کو کم کیا جائیگا حکو مت نے صوبے کے 17لاکھ خاندانوں کے لئے ہیلتھ انشورنس پالیسی منظور کرلی ہے جس سے صوبے کے لوگ سرکاری اور نجی شعبوں میں علاج معالجے کی سہولیات حاصل کر سکیں گے انہو ں نے کہا کہ کابینہ نے بلوچستان سیفٹی اینڈ ہیلتھ ایکٹ منظور کرلیا ہے جس سے 50ہزار کان کنوں اور دیگر مزدوروں کو تحفظ فراہم ہوگا جھالاوان، لورالائی اور تربت میڈیکل کالجزکی پی ایم سی سے منظور ی کے تمام لواضمات پورے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا عہدہ آئینی اور غیر جانبدار ہے اسمبلی اجلاس کے دوران سیاسی معاملات پر اسپیکر رولنگ نہیں دے سکتے انہوں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے احتجاج کے لئے لوگ مختلف فورم استعمال کرتے ہیں حکومت نے زیادہ سے زیادہ مسائل حل کرنے کے اقدامات کئے ہیں موجودہ حکومت کو یہ کریڈیٹ جاتا ہے کہ ہم نے ہر طبقے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب تک 100سے زائد قوانین اسمبلی سے منظو ر کئے ان میں متعدد قوانین میں بہتری کی ترامیم بھی شامل ہیں یہ کام گزشتہ حکومتیں نہیں کرسکیں حکومتی کارکردگی اسمبلی کے اندر اور انتظامی امور میں بہتر ہے۔صوبائی وزیر خوراک سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ صحت اور تعلیم مخلوط حکومت کی ترجیحات ہیں آج بلوچستان کا شناختی کارڈ رکھنے والا ہر شہری صحت انشورنس پروگرام میں شامل ہوگیا ہے اس پروگرام میں تمام ادارے آن بورڈ ہیں جبکہ منصوبے کو چلانے کے لئے بہترین انشورنس کمپنی کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ شفافیت کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صحت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پروفیسر اور اسسٹنٹ پروفیسرز کے تبادلے کرسکیں تاکہ صحت کے شعبے اور میڈیکل کالجز میں موجودکمیوں کو پوراکیا جاسکے ڈیڑھ سال کے دوران کورونا وائرس کی وباء کے باوجود حکومت نے تاریخٰی اقدامات کئے ہیں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی ناراضگی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ گھر کے اندر کی باتیں ہیں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ احتجاج کے لئے مخصوص مقام بنا یا جا سکے اور جو بھی احتجاج کرے متعلقہ وزیر اور سیکرٹری مظاہرین سے مذاکرات کے لئے وہاں جائے انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال میں بچوں کے لئے نئی وارڈ اور چلڈرن ہسپتال میں بھی دو نئے شعبے شروع کئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ صحت انشورنس اسکیم کے تحت 10لاکھ روپے تک کا علاج کروایا جاسکے گا جبکہ موذی امراض کے مریضوں کو محکمہ سماجی بہبود کے انڈومنٹ فنڈ سے علاج کے لئے پیسے دئیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ 18سال سے کم عمر افراد کے سرپرست انکا علاج کروانے کے مجاذ ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں