بسوں کی تیز رفتاری کے باعث ہزاروں افراد ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں، عوامی حلقے
چاغی:تفتان سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے تفتان جانے والی بسوں کو تیز رفتاری سے روکھا جائے تیز رفتاری کے سبب کئی مسافر لقمہ اجل بن چکے ہیں مگر بس ڈرائیورز تیز رفتاری سے بعض نہیں آتے ہیں ضلع چاغی کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے تفتان کے بسوں میں بیٹھ جانا برائے راست خودکشی کرنے کی مترادف ہیں بس کے ڈرائیور میدانی علاقے تو دور کی بات ہیں شہروں میں بھی بڑی مغروری کے ساتھ تیز رفتاری کرتے ہیں اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تفتان آر سی ڈی شاہراہ پر جب سے مسافر بسوں نے تیز رفتاری شروع کی ہے حادثات میں اضافہ ہوا ہے ابتک سینکڑوں مسافر اپنی زندگی سے ہاتھ دو بیٹھے ہیں ایک تو شاہراہ سنگل روڈ ہے دوسری جانب بس ڈرائیورز چھوٹی گاڑیوں کے سامنے آور ٹیک کرتے ہیں جس میں اکثر اوقات حادثات رونما ہوتے ہیں اور چھوٹی گاڑیوں میں سوار لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور تفتان سے کوئٹہ جانے والی مسافر بسوں کے تمام کمپنیز کے ڈرائیورز اس وقت لوگوں کے زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جو انتہائی افسوسناک عمل ہے اس قبل بھی مسافر بسیں بڑی گاڑیوں کے ساتھ ٹکرا گئیں یک مچ کے قریب ایک حادثہ میں تیس سے زائد مسافر جان سے گئے بعد میں لاگاپ کے مقام پر ٹرالر سے ٹکرا گیا 17 سے زائد مسافر زندگی کی بازی ہار گئے گزشتہ روز مستونگ میں ایک خاندان کا خاتمہ کر ڈالا اگر گزشتہ چار پانچ سالوں کے تمام واقعات اکھٹے کی جائے تو سینکڑوں مسافروں کی زندگیاں تفتان کے مسافر بسوں نے نگل لیا ہے مگر افسوس اس امر کی ہے ان بسوں کے ڈرائیورز اور مالکان کو کوئی پرواہ نہیں ہے اور نا انتظامیہ کوئی حکمت عملی دکھا رہا ہے عوامی حلقوں نے لیویز، پولیس، ایف سی،سے مطالبہ کیا ہے این ایچ اے کے ساتھ ملکر تفتان سے نوکنڈی، یک مچ،دالبندین، چھہتر، کچکی، پدگ، مل، احمد وال، نوشکی، گلنگور، پنجپائی، کانک، لک پاس تمام شہروں کو پہنچنے کے لیئے سفر طے کرنے کا ٹائم مقرر کیا جائے ہر شہر کا چیک پوسٹ ٹائم چیک کر کے اسے آگے جانے دیا جائے اگر ٹائم کی کسی نے بھی خلاف ورزی کی گئی اسے کڑی سے کڑی سزہ دی جائے ورنہ بصورت دیگر تفتان کے بسوں میں سفر کرنا ازرائیل کو خود بلا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی مترادف ہیں اور مسافر بھی تیز رفتاری کرنے والے مسافر بسوں میں سفر کرنے سے اجتناب کریں تاکہ انہیں انسانی جانوں کو ضائع کرنے کا احساس ہوجائے بصورت دیگر آئے روز یہ سینکڑوں گھروں میں نامعلوم قاتل کی صفہ ماتم بچاتے رینگے۔


