بیت المقدس فلسطینوں کی ہے، نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دینگے، سعودی عرب
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا کہا ہے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے ابتدائی خطاب کے دوران کہا کہ ’اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف کھلم کھلا خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔‘
غزہ کی موجودہ صورتحال پر گذشتہ ہفتے سعودی عرب کی درخواست پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس اتوار یعنی آج طلب کیا گیا تھا جس کا آغاز ہو گیا ہے۔
او آئی سی کے ورچوئل اجلاس کے آغاز پر سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ ’ہم بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات پر اسرائیلیوں کے قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مشرقی بیت القدس فلسطینیوں کی زمین ہے اور اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے عالمی برادری سے بھی کہا کہ وہ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے سامنے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
عرب نیوز کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو روکنا ہوگا۔‘
او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’پاکستان اپنے دفاع سے محروم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی قابض فوج کی طاقت کے غیرقانونی، بلاامتیاز اور وحشیانہ استعمال، جبر، اور ناانصافی پر حیرت زدہ ہے۔‘
شاہ محمود قریشی نے بھی کہا کہ ’اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے رحمانہ اور بلاامتیاز استعمال، عالمی انسانی و بنیادی حقوق سمیت عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
’ہمیں فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف جاری جارحیت رکوانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔‘
اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری کے سامنے چند مطالبات بھی رکھے جو درج ذیل ہیں:
عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے غیرقانونی ، بے رحمانہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔عالمی برادری فوری مداخلت کرتے ہوئے غزہ میں شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور غزہ میں جاری بمباری کو فی الفور روکا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی منظور کردہ قراردادوں پر فی الفور عمل کرایا جائے، یہ نہ صرف فوری بلکہ نہایت ناگزیر امر ہے۔
انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کو جوابدہی سے راہ فرار اختیار نہ کرنے دی جائے۔ عالمی قوانین بشمول چوتھے جینیوا کنونشن اور انسانی حقوق کے متعدد معاہدات کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو استثنا نہیں ملنا چاہیے۔
جارحیت کے مرتکب اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کو ناجائز طور پر ایک ہی پلڑے میں تولنے اور دونوں کو ایک ہی صف میں برابر کھڑا کرنے کی کوششیں بلاجواز ہیں۔
دوسری جانب آج (اتوار) ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس گذشتہ جمعے کو ہونا تھا تاہم امریکہ کی جانب سے اسے رکوا دیا گیا تھا جس کے بعد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اس اجلاس کو بھی بھی اتوار کو ہی طلب کر لیا گیا۔


