سردار بھوتانی سے کارکردگی کی بنیاد پر قلمدان لیا، جام کمال

کوئٹہ(سٹاف رپورٹر+) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ کافی ناراض ارکان کا دعویٰ کیا گیا مگر ارکان سامنے نہیں آرہے ناراض ارکان کی تعداد 2تھی اور آج بھی دو ہی ہے، کابینہ، اتحادی اور پارلیمانی ارکان میرے ساتھ ہیں، ہمیں اپنے اختلافات ترقی اور مسائل حل ہونے پر رکھنے چاہیئں نہ کہ ذاتی خواہشات کسی کی خواہشات پر پابند ی نہیں لگا سکتا وہ اپنی خواہشات رکھیں یہ جمہوری عمل ہے لیکن انکی خواہشات کے لئے پارٹی ڈسپلن خراب ہونے نہیں دیں گے، سردار صالح بھوتانی کا قلم دان کارکردگی کی بنیاد پر لیا جبکہ اسپیکر کو لکھے گئے خط میں تنقید نہیں تجاویز دیں تھیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے انٹر ا پارٹی انتخابات کروانے کے لئے الیکشن کمیشن کی جانب سے تین ماہ کی مہلت ملی ہے پارٹی انتخابات آئینی تقاضہ ہیں ضرور کروائیں گے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں سریاب روڈ پر زیر تعمیر اسپورٹس کمپلکس کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ کوئٹہ کا درجہ حرارت تبدیل ہوتا ہے کبھی ٹھنڈ تو کبھی گرمی ہوتی ہے یہ سیاسی عمل ہے کبھی اسے ہم برداشت کر جاتے ہیں کبھی برداشت نہیں ہوتا تو ہم بھی کچھ بول جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی ذاتیات کی سیاست پر یقین نہیں رکھا اختلاف رائے کی بناء پر جن سے قلم دان لیا میرا اور انکا تعلق ایک ہی حلقے سے ہے میں نے ایک حدتک چیزوں کو دیکھا اور نظر انداز کیا لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ پارٹی میں اشتعال پیدا کیا جائے اور لوگوں کو غیر ضروری طور پر گمراہ کریں جبکہ ایسی کوئی صورتحال نہ ہو انہوں نے کہا کہ سیاست میں قلمدان تبدیل ہوتے رہے ہیں بعض وزرا کے قلمدان تبدیل ہوئے ہیں، پہلی مرتبہ سردار صالح بھوتانی صاحب ناراض ہوئے، محسوس کیا بلدیات کے محکمے میں کام نہیں ہورہاصالح بھوتانی کے محکمے کی کارکردگی کی بنیاد پر قلمدان تبدیل کیا،مجھے نہیں وزیربلدیات کو کوئٹہ میں گھومنا چاہیے تھا بلدیات کے حوالے سے کام نہیں ہورہا تھا وزیراعلیٰ کی ذمہ داری نہیں کہ بلدیات کے محکمے کے امور دیکھے مگر میں نے محسوس کیا کہ ہم کوئٹہ کو نہیں اکیلا نہیں چھوڑسکتے محسوس کیا کہ محکمہ بلدیات اپنا کام ٹھیک سے نہیں کر رہا جس پر ایڈمنسٹریٹر بھی تبدیل کیا گیا وزیراعلی جام کمال خان نے کہا کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو خط کو ٹھنڈے دماغ سے پڑھا جائے، اسپیکر کو لکھے گئے خط میں تنقید نہیں تجاویز ہیں بعض عام ممبر اسپیکر کے اختیارات کو استعمال کرتے ہیں میں نے اسپیکر پر تنقید نہیں کی ہے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کافی ناراض ارکان کا دعویٰ کیا گیا مگر وہ سامنے نہیں آرہے البتہ کچھ دوست ہیں جو ناراض ہیں وہ آج سے نہیں بلکہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت اور میرے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے سے ناراض ہیں وہ تعداد 2تھی اور آج بھی دو ہی ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑے لوگ استعفیٰ دیں اور جائیں گے مگر کابینہ کے بہت سے ارکان اس وقت بھی میرے ساتھ موجود ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم سیاسی لوگ ہیں اگر ہم اپنے اختلافات بلوچستان کی ترقی کے حوالے سے رکھیں بلوچستان میں کام نہیں ہورہا ترقی یا حلقوں، اداروں، محکموں میں کام نہیں ہورہا اگر وزیراعلیٰ مداخلت کر رہا ہے اپنے رشتے داروں کو وزیراعلیٰ نواز رہے ہیں اگر یہ اعتراضات ہوں تو ان کا جواز بنتا ہے لیکن اگر کوئی یہ تعین کر ے کہ میں ناراض ہوں تو سب ناراض ہوں تو ایسا نہیں ہے آج تمام ارکان ہمارے ساتھ ہیں جب ناراضگیاں سامنے آئی تھیں تو سارے کابینہ کے ارکان، اتحادی، اور پارلیمانی ارکان میرے پاس آئے اورکہا کہ وہ اس مسئلے پر پریس کانفرنس کریں گے لیکن میں نے انہیں روکا کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کچھ لوگ اگر اسے ایک سیاسی مسئلہ بنانا چاہتے ہیں تو یہ ان پر منحصر ہے
دوسرا انٹروکوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے زیر تعمیر سریاب اسپورٹس کمپلیکس اور ریڈیو پاکستان لنک روڈ کا دورہ کیا اور تعمیراتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انھوں نے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور تعمیراتی ٹیم سے ملاقات کی۔ صوبائی مشران حاجی محمد خان لہڑی، حاجی اکبر آسکانی، سینیٹرز منظور احمد کاکڑ، آغا عمر احمد زئی، پارلیمانی سیکرٹری میر سکندر عمرانی، وزیراعلی کے کوآرڈینیٹر میر عبدالروف رند، وزیراعلی کے پرنسپل سیکرٹری زاہد سلیم، سیکرٹری اسپورٹس عمران گچکی، سیکرٹری روڈ سلیم اعوان، ڈی جی اسپورٹس، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ و دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی بلوچستان جام کمال کو سیکریٹری اسپورٹس کی جانب سے سریاب اسپورٹس کمپلیکس میں جاری تعیراتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں مزید نئے منی اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں 6 اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں مزید بتایا کہ صوبے بھر میں 65 فٹسال گراؤنڈ تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعلی نے اسپورٹس کمپلیکس اور ریڈیو پاکستان لنک روڈ پر کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے عوام کو مواصلاتی سہولیات اور صحت مند تفریحی کے مواقع میسر آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ سریاب کے لیے جامع ترقیاتی پروگرام مرتب کیا ہے جس کے تحت سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح صوبے بھر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیا ہے۔ سریاب کے نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں