کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے، ڈی آئی جی کوئٹہ کی پریس کانفرنس
کوئٹہ؛ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ اظہر اکرم نے کہا ہے کہ کسی کو بھی قانون میں ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ہوائی فائرنگ، اراضیات پر قبضے، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں اور رکشہ مالکان کے خلاف یکم جون سے بھر پور کارروائی کاآغاز کیا جارہا ہے، ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے اسلحہ لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے، گاڑیوں اور رکشوں کے خلاف کارروائی میں ایکسائز اور سیکرٹری آر ٹی اے سے بھی مدد لی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس لائن ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشن احمد محئی الدین، ایس پی سٹی شوکت میمن اور دوسرے پولیس حکام بھی موجود تھے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقع پر شہر میں ہوائی فائرنگ سے معصوم بچے، جوان اور بوڑھے اپنے جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اس سے نہ صرف خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے بلکہ بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے اسلحہ لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے، کالے شیشے والی گاڑیوں کے خلاف بھی یکم جون سے کارروائی کی جارہی ہے اور غیر نمونہ نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کریں گے اس کے لئے ایکسائز اور سیکرٹری آر ٹی اے سے تعاون لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بڑی تعداد میں غیر قانونی رکشے چل رہے ہیں جن کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کوئٹہ میں زمینوں کے قبضے کے معاملات چل رہے ہیں، لینڈ مافیا کے خلاف بھی کارروائی کریں گے انہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی شریف آدمی کی اراضی پر قبضہ کرے اس سے انصاف کا ترازو بگڑ جائے گا۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر میں نجی سیکورٹی گارڈز کو اسلحہ کی نمائش نہیں کرنے دیں گے، لیویز کو باقاعدہ اپنی وردی میں ہونا چاہیے اگر کوئی پرائیویٹ گارڈ رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے جو طریقہ کار ہے وہ اپنایا جائے۔ والدین بچوں کو کھلونا نما اسلحہ خرید کر نہ دیں، والدین اور اساتذہ بچوں کے لئے سوشلی کنٹرول کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شہر میں پہلے بھی پتنگ فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی اس حوالے سے مزید سختی کی جائے گی کیونکہ کیمیکل ڈور سے انسانی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں چلنے والی غیر قانونی رکشوں، گاڑیوں کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی سے رعایت نہیں بھرتی جائے گی۔ مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا کے خلاف ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور لینڈ مافیا میں جتنے بڑے بڑے نام آرہے ہیں انہیں سامنا لایا جائے گا۔ پولیس ان تمام کارروائیوں کے باوجود بھی جرائم سے فوکس نہیں ہٹائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لینڈ مافیا کے جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان سے اسلحہ اور حتیٰ کہ ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد کئے گئے ہیں، ایگل سکواڈ کا کام گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو چیک کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رکشے کسی ٹریفک پولیس اہلکار کے بھی ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ سیف سٹی ایسا پروجیکٹ ہے جس سے مختلف جرائم خاص کر دہشت گردی کے واقعات کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ روز کلی شابو میں فائرنگ کے واقعہ میں ایک شخص جاں بحق ہوا جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔


