ضلع پشین کے مختلف علاقوں میں گیس ناپید، عوام مشکلات کا شکار

کوئٹہ: ضلع پشین کے مختلف علاقوں میں صارفین ماہ جون میں بھی نا صرف گیس کی سہولت سے یکسر محروم ہیں بلکہ یومیہ بنیادوں پر بجلی کی سپلائی بھی 3سے 4گھنٹے تک کی جا رہی ہے،گیس کی سپلائی نہ ہونے اور پریشر کی کمی کے باعث صارفین مہینے بھر میں 50 سی ایم تک گیس استعمال نہیں کر پاتے جس کے باعث کمپنی کو پی یو جی اور سلو میٹر چارجز کی مد میں بھاری بھر کم بل بھیجنے کا بہانہ مل جاتا ہے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے مختلف علاقوں میں قلت آب کا مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے صارفین نے وفاقی اور صوبائی محتسب اعلی اور گیس و بجلی کے حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع پشین کے علاقے کلی جنگل طورخیل سیدان، کلی پنڈو بادیزئی،کلی حاجی خڑ بادیزئی،کلی حاجی صدیق بادیزئی،کلی چر بادیزئی،کلی کوز شنغری،کلی حاجیزئی سیدان،کلی حرمزئی سیدان،کلی گانگلزئی و دیگر میں ماہ جون میں بھی صارفین گیس کی سہولت سے محروم ہیں صبح سویرے سے لیکر رات گئے تک گیس کی لوڈ شیڈنگ نے گھریلو صارفین کو سخت مشکل سے دوچار کر دیا ہے بلکہ صبح ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانے کی تیاری بھی صارفین کے لئے چیلنج بن چکا ہے اس مقصد کیلئے صارفین کو گرم موسم میں بھی لکڑیاں جلا نا پڑ رہی ہے بلکہ گیس کی لوڈ شیڈنگ نے صارفین کو کمپنی کے من مانے احکامات کے باعث مزید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے ان کیلئے مہینے بھر میں 50سی ایم گیس استعمال کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ جب انہیں گرمی کے موسم میں بھی گیس کی سہولت میسر نہیں تو وہ کس طرح 50سی ایم تک گیس استعمال کریں صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں بعض میٹر ریڈرز کی جانب سے رات کو گیس کھلا چھوڑ کر 50سی ایم گیس استعمال کرنے کے مشورے دئیے جا رہے ہیں جس سے کسی بھی وقت جانی اور مالی نقصان کا احتمال رہتاہے،صارفین کا کہنا ہے کہ رواں سال سردیوں کے موسم کے دوران بھی وہ گیس کی سہولت سے یکسر محروم رہے ہیں بلکہ انہوں نے سردیوں سے بچنے اور کھانے کی تیاری کے لئے مہنگے داموں لکڑی اور کوئلہ خرید کر استعمال کیا ان کا کہنا تھا کہ گیس کمپنی صارفین کو گیس کی سپلائی نہیں کر سکتی تو وہ صارفین پر آئے روز نت نئے قوانین بھی لاگو نہ کریں وہ پہلے گیس کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائے اور بعد ازاں پی یو جی اور سلو میٹر چارجز لاگو کریں گیس کے علاہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی صارفین کا جینا محال بنا دیا ہے ماہ جون کی شدید گرمی میں 3سے 4گھنٹے بجلی کی فراہمی ظلم کے سوا کچھ نہیں بلکہ اس سے الیکٹرانک اشیا محض کھلونے بن چکے ہیں یہی نہیں مختلف علاقوں میں بھی قلت آب کا مسئلہ سنگین تر ہو کر رہ گیا ہے صارفین نے وفاقی محتسب سے دن بھر تسلسل سے جاری گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ اور پی یو جی و سلو میٹر چارجز کی مد میں صارفین کو بھاری بھر کم بل بھیجوانے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے صوبائی محتسب سے بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کیلئے احکامات دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور گیس و بجلی کمپنیوں کے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کا عمل روکنے کیلئے احکامات دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں