بلدیات بھولابسرانغمہ

تحریر: جمشید حسنی
ٹی وی ہے اخبارات میڈیا کہانیاں انکشافات میں ٹی وی اینکر پرسن کی منطق قوت گویائی سے حیران ہوتا ہوں حضرت موسیٰ کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوادعا کی میری زبان کی لکنت دورفرمامیرا منہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھیں یہاں سمجھانے والے بہت مگر ہماری سمجھ کمزور ہے سیاستدانوں کے بیانات ہیں۔
کہتے ہیں اس وقت عوام کیلئے کچھ کریں گے جب ہمیں اقتدار ملے گا حالانکہ یہ لوگ بار باراقتدار میں رہے عوام کاکوئی مسئلہ حل نہیں ہوا نہ ترقی آ ئی نہ خوشحالی روزگار بڑھا نہ مہنگائی ختم ہوئی انڈونیشیاء ملائیشیاتائیوان جنوبی کوریا ویت نام ہم سے آگے نکل گئے آج بنگلہ دیش افغانستان کاسکہ ہم سے زیادہ مستحکم ہے ایران مغربی پابندیاں ہیں مگر مغربی قرضے نہیں ہرپاکستانی پونے دو لاکھ قرض دار ہے ایتھوپیا ایران یونان لبنان صومالیہ سوڈان جیسے غریب ممالک بھی ہیں یمن میں خانہ جنگی ہے ہمیں کرپشن برباد کر گئی حکمرانوں کی عیاشیاں ہیں بلڈپروف گاڑیاں کارخانے کراچی اسلام آباد لاہور عالیشان بنگلے ذاتی جہاز دوسری طرف ٹی بی کا شکار بھٹے پراینٹیں بنانے والے مزدور بس کارڈوں کی بارش ہے صحت کارڈ احساس کارڈ بے روزگاری ہے مہنگائی بیرونی قرضے حزب ا ختلاف کہتی ہے پچاس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے وفاقی بجٹ آرہا ہے پھرصوبائی بجٹ ہوں گے این ایف سی ایوارڈ نداردپارلیمنٹرین کے ترقیاتی فنڈزکم نہیں ہونگے جنرل ضیاء کی بدعت برقرار رہے گی بلدیاتی ادروں کو اختیارات نہیں ملیں گے پوری دنیا میں حکومت کے تین درجے ہوتے ہیں وفاقی صوبائی بلدیاتی یامقامی یہاں بلدیات کاکام پارلیمنٹرین کرتے ہیں جنرل ضیاء نے ضلعی چیئرمین مجلس شوریٰ میں بٹھاکر اس سے قومی اسمبلی کاکام لیا اپنے حق میں ریفرنڈم کروایا جنرل مشرف نے ناظموں کا نظام متعارف کروایا ریفرنڈم کروایا ناظم کو امن وامان کے اختیارات دیئے اب حکومت بلدیاتی اداروں کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں سپریم کورٹ باربار بحالی کا کہہ رہی ہے بلدیاتی نظام میں یونین کونسل عموماً دس ہزار ووٹر ہوتے ہیں ہر وارڈ میں تقریباً ایک ہزار ووٹر یونین کونسل کا چئیرمین ضلع کونسل کا ممبر ہوتا ہے بلدیاتی نمائندے اپنی جگہ اختیارات مراعات مانگیں گے پہلے یونین اور ضلع کونسلیں تھیں پھر درمیان میں تحصیل کونسل کی بیخ ڈال دی گئی اب پھر نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں ہوں گی حلقہ بندی میں الیکشن کمیشن محکمہ بلدیات اور انتظامیہ ریونیومحکمہ ملوث ہوتے ہیں آبادی بڑھ گئی ہے لازما کونسلیں بھی بڑھیں گی کونسلوں کوترقیاتی فنڈز دینے ہوں گے پارلیمنٹرین اپنے ترقیاتی فنڈز کی کٹوتی پر راضی نہیں ہوں گے اور سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر بلدیاتی معاملات میں مداخلت سے باز نہیں آئیں گے مفادات کا ٹکراؤ ہوگا معاملات میں سلجھاؤ کی بجائے الجھاؤ پیدا ہوگا ترقیاتی عمل متاثر ہوگا اختلافات بڑھیں گے میں بدشگونی نہیں کرتا مفادات کا ٹکراؤلازمی ہے نئے بجٹ تجاویز میں بلدیات کیلئے کوئی فنڈز نہیں الیکشن پر خرچ آئیگا امن وامان کا مسئلہ ہوگابلدیات کے آمدنی کے ذرائع محدود ہیں اکثرکا حکومتی گرانٹ ان اینڈپرگزارہ پورے بلوچستان میں تین چارکونسلیں ٹیکس کے معاملہ میں بیلہ‘تفتان کوئٹہ تجارت پر سیلز ٹیکس مرکز لے جاتا ہے نہ زراعت نہ کوئی دریا ننہ کوئی صنعت کارخانہ ننگی دھوئے گی کیا نچھوڑے گی کیا۔مرکزی خیراتی پیکچزسے تو ترقی نہیں ہووتی میں کشمیر فلسطین افغانستان امریکہ کی واپسی کورونا ایران یمن کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا میں نے بلدیات پر بات کرنی تھی بجٹ آنے پر معمول ہوگا۔ بلدیات کو کیا ملتا ہے فٹف ہے آئی ایم ایف ورلڈبینک کی بجٹ کیلئے اشربادخوشنودی کی کوشش ہے شاہ محمود قریشی خصوصی جہاز پر بیرونی دورے ہیں فلسطین افغانستان کشمیر وہی ہوگا جو امریکہ ہندوستان چاہیں گے ہم تو مہینے پہلے ڈھنڈورامارچ میں اسلامی ملکوں کا سربراہی اجلاس پاکستان میں کروائیں گے اجلاس ہوبھی گیا تو ہم کیا کرپائیں گے ایران ایٹمی مسئلہ سعودی یمن میں پھنساہوا ہے فلسطین کا مسئلہ اسلامی ممالک کے سبب بنیں بلکہ اس لئے زندہ ہے کہ فلسطینی زندہ قوم ہیں ویت نامطالبان ہمت نہیں کرتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں