گوادر ائیرپورٹ طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل کیاجائے‘پی اے سی کمیٹی

اسلام آباد:پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی تکمیل طے شدہ شیڈول کے مطابق یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت میں صنعتی پلاٹس کے گھریلو مقاصد کے لئے استعمال کا سخت نوٹس لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔کمیٹی نے مجاز فورم کی منظوری کے بغیر ایک فرم کو کنٹریکٹ دینے پر بھی اظہار برہمی کیا جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے معاملات شفاف نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔جمعرات کے روز پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی صدارت ہوا۔اجلاس میں سی ڈی اے میں موجود ہ حکومت کے دور میں ہونے والی مالی بے قاعدگیو ں کی جانچ پڑتال کا معاملہ زیر غور آیا،کمیٹی نے سی ڈی اے سے پلاٹس سے متعلق رپورٹ نہ ملنے پر برہمی کا اظہار کیا،سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے کمیٹی کو بتایا کہ نامکمل رپورٹ دینے پر چیئرمین سی ڈی اے سے جواب طلبی کی گئی ہے۔آڈٹ حکام نے اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ سی ڈی اے نے استعمال نہ ہونے پر صنعتی پلاٹس کو منسوخ نہیں کیا،ان پلاٹس کی قیمت سات ارب اسی کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ی نے محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد نہ کرنے پر بھی اظہار برہمی کیا،کمیٹی رکن مشاہد حسین نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ بہت اہم ہے اس کیلئے فنڈز کا اجراء لازمی ہے جس پر سیکرٹری ایوی ایشن نے بتایا کہ اب گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ چینی خود بنا رہے ہیں،کورونا کی وجہ سے ایئرپورٹ کی تعمیر میں تاخیر ہوئی ہے،چینی حکام سے کہا ہے کہ وہ دسمبر 2022 تک اسے مکمل کریں،چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مارچ 2023 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے،حتمی ٹائم لائن پر چینی حکام سے بات چیت جاری ہے،اجلاس میں ایوی ایشن ڈویژن کے پانچ آڈٹ اعتراضات کمیٹی میں پیش کئے گئے،پانچ آڈٹ اعتراضات میں دو ارب روپے سے زائد کی بے قاعدگیو ں کی نشان دہی کی گئی جس پر آڈٹ حکام نے بتایا کہ مجاز فورم کی منظوری کے بغیر ایک فرم کو کنٹریکٹ دے دیا گیا حالانکہ کنٹریکٹ دینے کیلئے ایکنک سے منظوری لازمی تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں