ایران کی جانب سے عراق میں پراکسی گروپس کو ازسر نو ترتیب دینے کی کوشش

تہران:ایران کی جانب سے عراق میں اپنی ہمنوا ملیشیاؤں کے کارڈز کو از سر نو ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس واسطے تہران سیکڑوں با اعتمادجنگجوں کا انتخاب کر کے اپنے ہمنوا چھوٹے گروپ تشکیل دے رہا ہے۔ یہ بات برطانوی خبررساں ادارے نے بتائی،اس حوالے سے میلکم کیئر کارنیگی سینٹر فار مڈل ایسٹ کے ایک محقق اور عراق کے امور کے ماہر حارث حسن نے بتایا کہ قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کے مارے جانے کے بعد عراقی گروپوں کا جن کی تعداد پچاس کے قریب ہے، نظم و ضبط کم ہو گیا۔ ان میں الحشد الشعبی ملیشیا کی قیادت کے لیے مقابلے بازی شروع ہو گئی۔ اس کی وجہ عراقی ریاست کی جانب سے ملنے والی مالی رقوم ہیں۔ اس طرض ایرانی پاسداران انقلاب کے ایجنڈے پر عمل درآمد مرکزی ترجیح نہ رہی۔عراقی گروپوں میں بدرتنظیم، عصائب اہل الحق اور عراقی حزب اللہ کے بیچ رسہ کشی سامنے آنا شروع ہو گئی۔ یہ گروپ ملک میں قائم سیاسی تنازع میں کود پڑے۔ ان پر عوامی مظاہروں کو کچلنے کا الزام لگا۔ اس دوران یہ گروپ متعدد ہلاکتوں میں بھی ملوث رہے۔ بعد ازاں 2019 کے اواخر میں شدید عوامی رد عمل اور ایرانی نفوذ کے خلاف بھرپور مظاہروں کے بعد تہران نواز یہ گروپ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔حارث حسن کے مطابق مذکورہ چھوٹے چھوٹے گروپ سیکڑوں با اعتماد اور تہران کے وفا دار جنگجوں پر مشتمل ہیں۔ ان کو نئی تدابیر کی تربیت دینا نا گزیر تھا۔ اس حوالے سے ڈرون طیاروں کی ٹکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ یہ خطے میں ایران کی جنگوؤں میں استعمال ہونے والا نیا ہتھیار ہے۔عراقی امور کے ماہر نے واضح کیا کہ ان گروپوں کی تربیت لبنان میں حزب اللہ کے منجھے ہوئے عناصر کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ حزب اللہ کا زیادہ نظم و ضبط کا حامل ہونا اور ایک خود مختار سیاسی و جغرافیائی رقبہ رکھنا ہے جس کی عراق کے برعکس لبنان میں کوئی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔حزب اللہ کے ہاتھوں تربیت کا مشن اس وجہ سے بھی آسان رہا کہ عراقیوں کو ویزے کے بغیر لبنان میں داخل ہونے کی آزادی ہے۔با خبر ذرائع نے اس امر کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا کہ حزب اللہ نے شام میں حمص کے مغربی دیہی علاقے میں واقع شہر القصیر میں ڈرون طیاروں کے استعمال کی تربیت کا ایک مرکز قائم کیا۔ حزب اللہ کا بشار حکومت کے ساتھ مل کر اس مرکز پر کنٹرول ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں