عثمان کاکڑ کے موت کی وجہ برین ہیمبرج ہے،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ
کوئٹہ (کوئٹہ سٹاف رپورٹر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے ان کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہرآنکھ اشکبارتھی زندگی کے 40سال تک پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی سے وابستہ رہے عثمان خان کاکڑ کی جاں بحق ہونے کی تصدیق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے ٹویٹر پر اپنے پیغام جبکہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، میڈیا سے بات چیت میں یوسف خان کاکڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ عثمان خان کاکڑ پر شہباز ٹاؤن میں واقع اپنے گھر میں نامعلوم افراد نے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا تھا جو کئی روز تک موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد پیر کے روز زندگی کی بازی ہار گئے، عثمان کاکڑ کے جابحق ہونے سے متعلق خبر صوبے بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی یاد رہے کہ عثمان خان کاکڑ کو 17جون کی شام کو زخمی حالت میں کوئٹہ کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا بعد ازاں صوبے کے ماہر نیوروسرجنز پر مشتمل ٹیم نے کئی گھنٹوں پر مشتمل ان کی ہیڈ سرجری کی تھی جس کے بعد انہیں ایک اور وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کے لئے ایک اور نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا بعد ازاں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی آفر اور معالجین کے صلاح و مشورے کے بعد عثمان کاکڑ کو 19جون کو بذریعہ ائیرایمبولینس کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ آغا خان ہسپتال میں زیر علاج تھے، پہلے پہل عثمان کاکڑ کے گر کر زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں تاہم بعد ازاں پشتونخوا میپ کے رہنماؤں نے اسے حملہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔ پیر کے روز پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا اور صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عثمان خان کاکڑ کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ پارٹی کے صوبائی صدر و سابق سینیٹر نے سینٹ کے الوداعی خطاب میں کہا تھا کہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ انہیں نہیں چھوڑا جائے گا، عثمان خان کاکڑ 1960میں پیدا ہوئے اور زمانہ طالب علمی سے سیاست کا آغاز کیا وہ زندگی کے آخری دم تک پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے وابستہ رہے، وہ کئی بار پشتونخوا میپ کے ٹکٹ پر انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں تاہم انہیں عام انتخابات میں کامیابی نہیں مل سکی، 2013کے انتخابات میں پشتونخوا میپ کو بلوچستان میں کامیابی ملی تو عثمان خان کاکڑ کو سینیٹ انتخابات کے لئے ٹکٹ کا اجراء کیا گیا اور وہ کامیاب قرار پائے، عثمان کاکڑ 2015سے مارچ 2021تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے۔ 2018میں مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتوں کے اتحاد سے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کا الیکشن لڑا تاہم کامیاب نہ ہوئے۔ عثمان خان کاکڑ 6سال تک سینیٹر رہے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کم ترقیاتی یافتہ علاقوں کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ رواں سال کے دوران وہ 6سالہ مدت پوری ہونے کے بعد سینیٹ ریٹائر ہوگئے جس کے بعد انہیں پشتونخوا میپ نے دوبارہ بھی سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ جاری کیا، عثمان خان کاکڑ کی پشتونوں اور دیگر محکوم اقوام کے لئے بہترین خدمات کی انجام دہی کا ان کے مخالفین بھی متعرف رہے ہیں بلکہ بلوچستان کی مختلف سیاسی شخصیات نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے عثمان خان کاکڑ کو ووٹ کرنے کی بھی اپیل کی تھی تاہم انہیں مارچ میں ہونے والے سینٹ انتخابات میں کامیابی نہ مل سکی، عثمان کاکڑ پشتونخوا میپ کو منظم کرنے کے لئے ان دنوں کوشاں تھے۔عثمان خان کاکڑ نے 1987میں کوئٹہ کے لا کالج سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ پشتونخوا میپ کی طلبہ تنظیم پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے وابستہ رہے۔بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے عثمان خان کاکڑ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اور صوبائی صدر تھے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز تین دہائیاں قبل پشتونخوا میپ میں شمولیت لی اور آخری لمحے تک پارٹی سے وابستہ رہے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کے صوبائی صدر کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عثمان خان کاکڑ کو شہباز ٹاؤن میں واقع اپنے ہی گھر میں نامعلوم افرا دنے اس وقت شدید زخمی کیا کہ جب اس کے ساتھ گھر میں اس کی چھوٹی بیٹی کے علاوہ کوئی اور شخص موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عثمان خان کاکڑ کی پوسٹ مارٹم کی جائے گی جس کے بعد کوئٹہ روانگی کا اعلان کیا جائے گا۔ کراچی میں عثمان کاکڑ کی نماز جنازہ ادا کردی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عثمان کاکڑ کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ نے کہاہے کہ اسٹبیشلمنٹ اگر یہ سوچتی ہے کہ عثمان کاکڑ کومارنے سے ان کی سوچ ختم ہوگی تو یہ ان کی بھول ہے عثمان کاکڑ نے لوگوں کو شعور دیا انہوں نے کہاکہ میں لوگوں کی محبت پر ان کا شکر گزار ہوں رونے دھونے سے عثمان کاکڑ زندہ نہیں ہوں گے۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پشتونخوا میپ انتہائی افسوس، رنج غم والم کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکریٹری اور پارٹی کے صوبائی صدر سابق سینیٹر شہید عثمان خان کاکڑ 21جون بروز سوموار کراچی کے آغا خان ہسپتال میں جام شہادت نوش کرگئے، شہید عثمان خان کاکڑ کا نماز جنازہ اور تجہیز و تدفین کے مراسم ان کے آبائی شہر مسلم باغ میں بتاریخ 23 جون بروز بدھ بوقت شام 5 بجے ادا کی جائے گی، واضح رہے کہ شہید عثمان خان کاکڑ کا میت کل 22 جون بروزمنگل کراچی سے کوئٹہ براستہ خضدار کوئٹہ کے لئے روانہ ہوگی اور شام میت کوئٹہ پہنچ جائے گی اور پھر اگلے دن یعنی 23 جون بروز بدھ صبح میت کوئٹہ سے مسلم باغ روانہ ہوگی اور شام 5بجے ان کو پورے پشتون قومی اعزاز اور اسلامی روایات کے مطابق سپرد خاک کیا جائے گا، پارٹی نے شہید رہنما عثمان خان کاکڑ کے المناک غم میں 7دن سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران پارٹی کا پرچم سرنگوں رہے گا۔ افغانستان کے صدارتی محل سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر اشرف غنی نے عثمان کاکڑ کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘عثمان خان کاکڑ افغان سرزمین کے زیرک سیاست دان اور امن کے خواہاں تھے۔ وہ افغان امن عمل کے حمایتی اور افغانستان میں بیرونی مداخلت کے سخت مخالف تھے۔ ’عثمان خان کاکڑ ہر قسم کے تشدد، ظلم اور جبر کے خلاف اپنے مظلوم اور محکوم عوام کی آواز تھے اور ان کی موت افغان سرزمین اور عوام کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ افغان حکومت اور عوام کی جانب سے ہم پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ان کے خاندان کے غم میں شریک ہیں۔


