گرلز انٹر کالج حب کی عمارت 6سال سے ادھوری، ٹھیکیدار کو مشکلات طالبات پریشان
حب(نمائندہ انتخاب)گرلز انٹر کالج حب کی عمارت کا منصوبہ 6سالوں میں بھی مکمل نہ ہو سکا فنڈز کی قلت اور تاخیر کے سبب تعمیراتی مٹیریل اور لیبر کاسٹ بڑھ جانے کے سبب ٹھیکیدار کو بھی کام مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا گرلز کالج کی عمارت کے کام میں تعطل کی وجہ سے طالبات گرلز ہائی اسکول حب میں تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پرمجبور حکومت ایک جانب صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے کر رہی ہے تو دوسری جانبب تعلیمی ادارے سہولیات کے فقدان کی وجہ سے تعلیمی مسائل کا شکار ہیں تو دوسری طرف حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کی پالیسی بھی دہرے معیار کا شکار نظر آرہی ہے گرلز انٹر کالج کی 6سالوں سے ادھوری عمارت کے ساتھ ہی گزشتہ سال ڈگری کلاسز کے لئے اس ادھوری عمارت ست متصل شروع کئے گئے منصوبے پر کام کی رفتار تیزی سے جاری اس سلسلے میں بتایاجاتا ہے کہ بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بچیوں کی تعلیم کیلئے ایم پی اے سردار محمد صالح بھوتانی کی تجویز پر 2016ء میں گرلز انٹر کالج کی کلاسز کے اجراء کے ساتھ ہی 9کروڑ64لاکھ روپے کی لاگت سے کالج کی عمارت تعمیرات کے کام کا آغاز کیا گیالیکن حکومت کی تبدیلی اور نئی حکومت کے قیام کے ساتھ گرلز انٹر کالج حب کی بلڈنگ کے تعمیراتی کام کے فنڈز میں بھی کمی آتی گئی اور آج 6سال ہورہے ہیں کالج کی عمارت ابھی تک اھوری پڑی ہوئی ہے اس حوالے سے بلڈنگ کی تعمیر کے ٹھیکیدار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ فنڈز کی قلت کی وجہ سے کالج کی عمارت کا کام تعطل کا شکار ہے جبکہ دوسری جانب دو سالہ منصوبے کو 6سال گزر گئے اسی رفتار سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہو ابتایا جاتا ہے کہ ٹھیکیدار کو محکمہ تعمیرات ومواصلات نے اس وقت بھی 2008ء کے کمپوزٹ شیڈول ریٹ کے تحت کام کا ٹھیکہ ایوارڈ کیا تھا اور اسوقت سریا کی قیمت 75ہزار روپے فی ٹن جبکہ اس وقت سریا کی قیمت ایک لاکھ 40ہزار روپے فی ٹن ہے اور سیمنٹ کی فی بوری کی قیمت اسوقت 380روپے تھی اور آج وہی سیمنٹ کی بوری 700روپے پر پڑ رہی ہے مٹیریل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی لیبر کاسٹ بھی مہنگائی کے تناسب سے بڑھ چکی ہے ٹھیکیدار کے مطابق ان چھ سالوں میں اُسے بلڈنگ کی ٹوٹل لاگت کا ٪50فیصد پے منٹ ہوئی ہے اس حوالے سے محکمہ تعمیرات ومواصلات لسبیلہ کے بلڈنگ سیکٹر کے ایکسین سے رابطہ کیا گیا تو موصوف نے انتہائی تسلی بخش جواب دیا کہ محکمے کی طرف سے ٹھیکیدار کو پے منٹ بھی کی جارہی ہے اور اس سال کے مالی سال میں بھی رقم مختص کی گئی ہے لیکن آن گراؤنڈ کالج کی عمارت کے تعمیراتی کام کی کہانی ایکسین کے دعوے کے بر عکس دکھائی دے رہی ہے ذرائع بتاتے ہیں کہ گرلز انٹر کالج حب کی عمارت کے ساتھ ہی بلوچستان کے دیگر اضلاع میں 14کالجز کی تعمیرات کی ایک امبر یلا اسکیم بجٹ میں رکھی گئی تھی جن میں چند پر ہی کام شروع ہو سکا جو کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کی دعویدارہے وہ بھی اس جانب توجہ دینے سے قاصر نظر آرہی ہے یہاں پر توجہ طلب ایک بات یہ بھی نظر آتی ہے کہ اسی ادھوری عمارت کے ساتھ ہی ایک دوسری عمارت کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا جو کہ عمارت کی تعمیر کا کام ٹھیکیدار در ٹھیکیدار اور ٹھیکوں کی خرید و فروخت کے نتیجے میں شروع کی گئی ہے لیکن ایک سال سے اس عمارت کا کام کافی حد تک کیا جاچکا ہے بتایا جارہا ہے کہ یہ عمارت اسی پُر انی عمارت کے منصوبے کا دوسرا فیز ہے جو کہ ڈگری کلاسز کیلئے بنائی جارہی ہے تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف کالج کی ابتدائی کلاسز کی عمارت چھ سالوں سے ادھوری پڑی ہے اور مزید آگے کی کلاسز کے لئے شروع کی گئی عمارت کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس عمارت کا منصوبہ بھی دو سالہ ہے ٹھیکیدار کا دعویٰ ہے کہ دوسال سے پہلے ہی عمارت مکمل کرلی جائے گی حکومت کا تعلیمی پالیسی یہ ہے کہ دوہرا معیار سمجھ سے بالاتر ہے اگر یہ کچھ سیاسی تعصب پسندی کا شاخسانہ ہے تو بھی حکومت کی علم دوستی کی نفی کر رہی ہے اس حوالے سے کالج کی طالبات اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گرلز کالج کی عمارت نامکمل ہونے کی وجہ سے اس وقت طالبات گرلز اسکول حب میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جہاں پر کالج سطح کی تعلیمی سہولیات کے فقدان کے سبب انہیں مشکلات کا سامنا ہے اور اساتذہ کی بھی کمی ہے جس سے انہیں تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


