بجلی لوڈ شیڈنگ کیخلاف شہری سراپا احتجاج دھرنا قومی شاہرا بند

حب(نمائند ہ انتخاب) حب اور رئیس گوٹھ وملحقہ آبادیوں میں بجلی کے مصنوعی بحران اور Kالیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے،رئیس گوٹھ کے مقام پر مظاہرین کا کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دھرنا حب اور کراچی کے مبین زمینی رابطہ کئی گھنٹوں تک منقطع،ٹریفک معطل ہونے کے سبب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں،Kالیکٹرک اہلکار جان بوجھ کر شہریوں کو تنگ کرتے ہیں خود بجلی چوری کراتے ہیں اور صارفین کو بھاری بھر کم بل تھما کر عوام کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں سندھ اور وفاقی حکومتKالیکٹرک کے خلاف نوٹس لیں Kالیکٹرک کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج اور لب کشائی پر مزید انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے مظاہرین کی میڈیا سے گفتگو تفصیلات کے مطابق حب شہر اور متصل علاقہ رئیس گوٹھ و ملحقہ علاقوں آبادی میں بجلی کا مصنوعی بحران اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ تسلسل سے جاری شدید گرمی میں بجلی کا کئی کئی گھنٹے غائب رہنا معمول بن گیا حب اور رئیس گوٹھ وملحقہ آبادیوں میں بجلی کے مصنوعی بحران اور Kالیکٹرک کے ستائے بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے رئیس گوٹھ کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر رکاٹیں کھڑی کر کے دھرنا اور احتجاجی مظاہرہ Kالیکٹرک کے خلاف شدید نعرے بازی دھرنے کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ٹریفک جام ہو کر ہ رہ گیا جس کے باعث سندھ و بلوچستان کا زمینی رابطہ گزشتہ کئی گھنٹے معطل چھوٹی بڑی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جب تک رئیس گوٹھ کی بجلی بحال نہیں کی جاتی اس وقت تک احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ جاری رہے گاکسی کے طفل تسلیوں میں نہیں آئیں گے Kالیکٹرک کے ستائے مظاہرین کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ گزشتہ کئی دنوں سے حب اور رئیس گوٹھ سمیت ملحقہ آبای والے علاقوں میں بجلی کا مصوعی بحران اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ شدت سے جاری ہے Kالیکٹرک افسران و عملہ جان بوجھ کر عوام کو تنگ کر تے ہیں اور گنجان آبادی والے علاقوں کو ٹارگٹ بنا رکھا ہے جون کے مہینے میں گرمی زوروں پر ہوتی ہے اور Kالیکٹرک افسران و عملہ گرمی کی شدت کو دیکھ کر بجلی بند کر کے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کرتا آرہاہے اور مذکورہ ادارے کا عملہ بے لگام گھوڑا بن چکے ہیں انہیں عوام کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہے اپنی من مانیوں اور موج مستیوں میں مصروف ہو کر عوام کو کسی نہ کسی بہانے سے تنگ کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ Kالیکٹرک عملہ ٹیکنیکل طریقوں سے بجلی چوری کرنے میں مصروف ہے اور مٹھی گرم کرنے کے عوض میں بااثر لوگوں کو کنڈے لگا کر دے دیتے ہیں جب انکی چوری منظر پر آجاتی ہے تو وہ تمام ملبہ غریب عوام پر ڈال کران پر بھاری جرمانہ عائد کر کے انہیں مزید پریشان کر دیتے ہیں جبکہ Kالیکٹرک کا عملہ شہری علاقوں کو بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور مجبوراً شاہراہیں بلاک کر دیتے ہیں اس کے باوجود Kالیکٹرک افسران کے کانوں میں جوں نہیں رینگتی مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ جب تک رئیس گوٹھ اور ملحقہ علاقوں کی بجلی نہیں کی جاتی اس وقت تک کسی سے مذاکرات نہیں کئے جائینگے اور نہ ہی کسی کے طفل تسلی جیسی باتوں میں آئیں گے لہٰذا سندھ اور وفاقی حکومت Kالیکٹرک کی زیادتیوں کا نوٹس لیکر عوام کو پریشانی سے نجات دلائیں اسی طرح حب شہر اور ملحقہ علاقوں میں بھی گزشتہ کئی دنوں سے kالیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری ہے جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے اس حوالے سے حب کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے گزشتہ روز بھی حب شہر اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری کئی علاقوں میں 6سے8گھنٹہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن گئی ہے اب رات آخری پہر میں بھی بجلی بند کی جانے لگی ہے اور عین فجر آذان کے وقت بند بجلی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں