حکومت بلوچستان کی جانب سے ہنگلاج ماتا استھان مندر ماسٹر پلان کیلئے تیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں،سینیٹر دنیش کمار
کوئٹہ:بلوچستان سے منتخب اقلیتی سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ ہنگلاج ماتا استھان مندر ماسٹر پلان کے لئے گورنمنٹ بلوچستان کی جانب سے تیس کروڑ روپے مختص اور ہنگلاج ماتا مندر کو مذہبی ٹورازم کے حوالے سے پروموٹ کرنے کے اقدامات سے پاکستان اور دنیا کی ہندو برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ہنگلاج ماتا استھان ہندو مذہب میں 4 مقدس مذہبی مقام میں سے ایک ہے اور اس مندر کی بہت تاریخی اہمیت بھی ہے یہاں پر پورے پاکستان سے سالانہ دس لاکھ ہندو یاتری یاترا کرنے آتے ہیں اسی طرح سے پوری دنیا سے ہندو اپنی مذہبی رسومات کے لئے آتے ہیں۔دنیش کمار نے کہا کہ ہنگلاج مندر بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے ایک بہترین مثال ہے اس مندر کی حفاظت لسبیلہ کے مقامی بلوچ مسلم برادری کرتی ہے اور عقیدت سے نانی مندر کے نام سے پکارتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس مندر کی اہمیت کو ماضی میں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا لاکھوں یاتری مشکلات کا شکار تھے مگر موجودہ صوبائی گورنمنٹ نے تین سالوں میں ایک ارب سے زائد کے ترقیاتی کام کرواکر پاکستان کی ہندو برادری کے دل جیت لئے ہیں ان اقدامات سے یقینا پوری دنیا میں پاکستان کا ایک مثبت تاثر جائے گا مذہبی ٹورازم کے حوالے سے پروموٹ کرنے سے دنیا سے لاکھوں لوگ ہنگلاج ماتا استھان کی زیارت کرنے آئینگے جس سے جہان حکومت پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا وہاں مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع حاصل ہونگے دنیش کمار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس مقدس مقام لی ترقی کے لئے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا اور وفاقی بجٹ میں میری جانب سے ہنگلاج ماتا مندر کے ترقیاتی اسکیمات کے حوالے سے تجاویزات کو رد کردیا۔


