اگر آزاد کشمیر کے وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ رینجرز انہوں نے طلب نہیں کی تو پھر رینجرز کس نے بلائی؟ حافظ حمد اللہ
کوئٹہ ( آئی این پی ) جمعیت علما اسلام پاکستان کے مرکزی رہنماسینیٹر مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ اگر آزاد جموں کشمیر کے وزیراعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ رینجرز انہوں نے طلب نہیں کی تو پھر قوم کو بتایا جائے کہ رینجرز کس نے بلائی اور کس اختیار کے تحت بلائی گئی؟ اگر واقعی یہ اقدام وزیراعظم کی اجازت اور مرضی کے بغیر کیا گیا ہے تو یہ آزاد کشمیر کے انتظامی و آئینی اختیارات پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، ایسی صورت میں وزیراعظم کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے تھی یا پھر وزارتِ عظمی کے منصب پر برقرار رہنے کے بجائے استعفی دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے یہ بات آزاد کشمیر کے علاقے رنگلہ کالج گرانڈ میں منعقدہ عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جمعیت علما اسلام آزاد کشمیر کے سینیئر نائب امیر مولانا امتیاز عباسی اور ختمِ نبوت کے سرپرستِ اعلی مولانا سلیم اعجاز نے بھی خطاب کیا۔ مولانا حافظ حمداللہ نے کہا کہ عقیدہ ختمِ نبوت امتِ مسلمہ کے ایمان کی بنیاد اور اتحاد کا محور ہے، اس کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی دی جا سکتی ہے، جبکہ کانفرنس کے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔


