چیف جسٹس بلوچستان و دیگر پر مشتمل بینچ کی جعلی ڈومیسائل سے متعلق درخواستوں کی سماعت
کوئٹہ:بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس محمدکامران خان ملاخیل پرمشتمل ڈویژنل بینچ نے سینئر قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ ودیگر کی جانب سے جعلی ڈومیسائل سے متعلق دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران ساجدترین ایڈووکیٹ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن اسفندیارخان کاکڑ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ و دیگر پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر پشین کی عدم پیشی پر بینچ نے برہمی کا اظہار کیا ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنرز جعلی ڈومیسائل سے متعلق رپورٹس اے سی ایس کو جمع کرائیں گے تاکہ پھر اے جی کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی جائیں جس پر بینچ نے حکم دیا کہ پہلے مرحلے میں کوئٹہ ڈویژن کی رپورٹس مکمل کرنے کے بعد دوسرے مرحلے میں سبی ڈویژن کی رپورٹس جمع کرائی جائیں،ساجد ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے لوگ آج بھی والد کی ڈومیسائل پر ملازمت کررہے ہیں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایک اور کیس میں عدالت میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی واحد یونیورسٹی سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کا اپنا ڈومیسائل نہیں ہے بلکہ والد کے ڈومیسائل استعمال کررہی ہے۔ سماعت کے دوران ساجد ترین ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ مقررہ مدت کے بعد ڈومیسائل کیلئے نوٹسز کے باوجود پیش نہ ہونے یا جواب نہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی یا ان کے ڈومیسائل منسوخ کئے جائیں جس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ایک ماہ کے بعد پیش نہ ہونے پر متعلقہ انتظامیہ ڈومیسائل منسوخ کرے عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ کوئٹہ ڈویژن کے ڈومیسائل و لوکلز کی تصدیق کیلئے کمیٹی تشکیل دے۔ عدالت نے اے سی ایس پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ عدالت نے ڈومیسائل و لوکلز سے متعلق میکنزم بنانے کی ہدایت کی تھی اس پر کیا کام ہوا ہے جس پر اے سی ایس نے بتایا کہ قانون سازی سے متعلق میکنزم تیار ہے تاہم محکمہ قانون کی جانب سے اس پر اعتراضات ہیں ساجد ترین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں آج بھی سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت ڈومیسائل کا اجرا کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ڈومیسائل و لوکلز سے متعلق میکنزم دوبارہ محکمہ قانون کو بھیجا جائے ڈومیسائل و لوکلز کے اجرا کا سٹیزن شپ ایکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا محکمہ قانون جلد سے جلد اس پر کام شروع کریں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کیلئے ملتوی کردی۔


