گوادر میں پانی کا مسئلہ حل ہوگیاہے،صادق سنجرانی

کراچی : چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ گوادر میں تیزی سے ترقیاتی کام جاری ہیں اورگوادر بزنس کا حب بننے جارہا ہے،گوادر میں پانی کا مسئلہ حل ہوگیاہے ڈی سینی ٹائزیشن پلانٹ لگادیئے گئے ہیں اورتاجروں کو گوادر سی پیک میں اپنا سرمایہ لگانا ہوگا،اسلام آباد کے بعد گوادر ماسٹر پلان پر تعمیر کیا جارہا ہے،گوادر ایکسپورٹ فری زونز ہیں،صنعتکار مہربانی کرکے گوادر میں صنعتیں لگائیں،بہت جلد نیشنل گرڈ سے گوادر کو بجلی ملے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر صدر کراچی چیمبر شارق وہرہ اور زبیرموتی والا نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا کی بھی یہی رائے ہے کہ لوگ بیٹھیں اور مسائل کا حل نکالا جائے،کراچی اس ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اورکراچی ہے توہم ہیں، کراچی کی بزنس کمیونٹی کے گلے شکوے جائز ہیں تاہم حکومت کے اپنے مسائل بھی ہوتے ہیں،مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی تعریف کریں تو اپوزیشن ناراض ہوتی ہے،پاکستان کے ہر حصے سے تجاویز سینیٹ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں،کراچی چیمبر کے7 پوائنٹس ہر میں خود سینیٹ میں ڈیبیٹ کرانگا۔صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان میں مزاج بدلنے چاہئیں،بیورووکریسی کو رکاوٹوں کے بجائے آسانی پیدا کرنے کی ضرورت ہے،پبلک سیکٹر کوئی بزنس نہیں کرسکتا،ہم بزنس کمیونٹی کوسپورٹ کریں گے، اس لئے اب پاکستان میں مزاج تبدیل کرنا ہوگا اور بیورو کریسی کوبھی اپنا مزاج دیکھنا ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن اس خطے کیلئے ضروری ہے، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے،پاک افغان کی صورتحال پر ہمارا مکمل فوکس ہے، کچھ عناصر ہیں جو چاھتے ہیں وہاں امن نہ ہوخطے میں افغانستان کا امن ضروری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں اسلام آباد پہنچ کر دو لوگوں کا تعین کرونگا،مسائل کے حل کے لئے کمیٹیز کے لوگ کراچی چیمبر سے رابطہ کرینگے،میں صرف لیجسلیٹر کا نہیں دیگر کام بھی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہسینیٹ آف پاکستان کی جانب سے ہم ہمیشہ تعاون کے لئے تیار ہیں،میں چیمبر میں آتا رہوں گا آج سے یہ میرا بھی چیمبر ہے۔کراچی چیمبر کے صدر شارق وہرہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ک پاکستان کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے،پاکستان کے دوسرے شہروں میں زرعی زمینوں پرہاسنگ اسکیمز بن رہی ہیں، چیئرمین سینیٹصادق سنجرانی کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے جو سب سے پسماندہ ہے،بلوچستان میں سب سے زیادہ زرعی زمین ہے،4 فیصد کی گروتھ پر پاکستان کی 22 کروڑسے زائد عوام ہے،وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے کہ زرعی پیداوار کم ہوتی رہیں تو مشکلات بڑھ جائینگی۔انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبرکے 25ہزار ممبرز ہیں اور کراچی میں 7 صنعتی زونز ہیں،کراچی لائف لائن ہے اور شہر کے مسائل کو دور کرنے کی ضرورت ہے اورچیئرمین سینیٹ کی آمدہمارے لئے بہترین موقع ہے تاکہ وہ کراچی کے مسائل کو ایوان بالا تک پہنچا سکیں، چیئرمین سینیٹ اپنا عہدہ کے تناظر میں کراچی کے مسائل کے حل کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔سابق صدر اور چیئرمین یو بی جیزبیرموتی والا نے کہا کہ پاکستان کے مجموعی خزانے میں سب زیادہ ٹیکس کراچی دیتاہے،کراچی کے تاجروں کے ساتھ انصاف کیاجائے،فیصلے برابری کی بنیاد پرہونے چاہئیں،کراچی کے تاجروں کے ساتھ نا انصافی کیوں ہے؟، آج کراچی کو کچرے کا گھرکہنا شروع کردیاگیاہے،ہم کراچی کے مسائل تمام سینیٹرز کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔زبیرموتی والا نے کہا کہ ہم چاھتے ہیں ملک کے دیگر شہروں میں ترقی ہو لیکن کراچی میں ترقی بھی اسی تناسب سے ہونی چاہئیے،تاجرو صنعتکاروں کو 60 فیصد نوٹسسز دینا مسائل کو بڑھانا ہے، کراچی میں ایشو زہوتے ہیں،کراچی کے ساتھ ناانصافی ماحول بن رہا ہے جوناانصافی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ” لاہور وڈا پنڈہے اور کراچی کچرے کا ڈھیر ہے”،ٹھیک ہے کہ ملک بھر میں میٹرو سمیت دیگر منصوبے بنائے لیکن کراچی کو بھی کچھ دیا جائے،ھم تاجروں صنعتکاروں نے کوئی ایسا کام کیا ہے جو گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔زبیر موتی والا نے کہا کہ وزیر خزانہ سے 9 نکات پر بات چیت ہوئی تھی،برآمدات تو بڑھ گئیں لیکن برآمدکنندگان کی تعداد کم ہوگئی، 7 باتیں جو طے کی گئیں ان پر عملدرآمد ضروری ھے،ہمارا مطالبہ ہے کہ سینیٹ کی کمیٹیز کو کراچی بھیجیں،اس شہر میں دو نظام چل رھے ہیں،ہم سے تعاون بڑھائیں تاکہ مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جاسکیں،ھم یہ بھی چاھتے ہیں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ذریعے افغانستان سے حالات بہتر کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں