بلوچ ناراض نہیں بلکہ حقوق کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں، چیئرمین جاوید بلوچ

کوئٹہ :بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ممبرمرکزی کمیٹی چیئرمین جاوید بلوچ نے کہاہے کہ بلوچ ناراض نہیں بلکہ قومی حقوق کی حصول کیلئے جدوجہدکررہی ہے ناراض کالفظ ان عناصرکیلئے صادرآتا ہے جوذاتی وگروہی مفادات ووزارت ومشیرکیلئے دن کوناراض اوررات راضی ہوکراپنی ضمیرکاسوداکرتے ہیں ان کوبلوچ قومی تحریک کے خدوخال اوراہمیت کازرہ برابر بھی علم نہیں سترسالوں سے تسلسل سے جاری جدوجہد میں ہزاروں فرزندوں کی قربانیوں کوسمجھنے کیلئے نظریاتی سوچ اورفکری عمل ہوناضروری ہیبلوچ قومی موقف جاننے کیلئے بلوچستان کے حقیقی سیاسی وجمہوری ترقی پسندقومی قیادت کواظہاررایکاموقع ملناچایے سترسالہ استحصال ومایوسی کوچھپانے کیلئے تھڑہ چاپ عناصرکوسلیکٹ کرکے مہذب عالمی دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ریاست کی تنہائی کاباعث بناہواہے مختصرمدت میں سرداراخترجان مینگل نے بلوچستان کیاصل مسال اوران کاحل ایوان میں سب کے سامنے مدلل اندازمیں رکھاجس سیتمام سیاسی وجمہوری قوتوں اورعوام کوبلوچستان کے بنیادی مسئلہ سے روشناس کرایاجس میں بلوچ اوربلوچی بلوچ قوم کے تاریخی پس منظرواصل بلوچستان کاحدود نواب نوروزخان شہید سمیت شہیدوں اجتماعی قبروں لاپتہ افرادمعادہ قلات اورمعادات چھ نکات سمیت بلوچستان کے احساس محرومی ختم کرنے کیلئے تجاویزشامل ہے لیکن حکمران اورسلیکٹرزکوبلوچستان کے عوام نہ ہی ان کے نمائندوں اورعوامی مسال توجہ دلاسکے بلکہ چندضمیرکیاندے گورکھ دھندے والے عناصرکوبلوچستان کے نمائندہ کے طورپرپیش کرکے سورج کوانگلی سے چھپانے کی کوشش کررہیہیں قومی جدوجہدفکری سوچ کوناراضگی کانام دینابالکل غلط ہے بلکہ بلوچستان کامسلہ سیاسی وانسانی ہے جسے کٹھ پتلیوں کوبڑھاچڑھاکرپیش کرنے سے نہیں بلکہ حقیقی جمہوری عوامی سیاسی جماعتوں اورعوامی نمائندوں کے تجاویزوآرا پرتوجہ دیکرکچھ حد تک شایدحل کیاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں