گوادر کے ذریعے خطے کے ممالک کیلئے سمندر تک رسائی ممکن بنا سکتے ہیں، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر ہمارے خطے نے معاشی و اقتصادی طور پر آگے بڑھنا ہے تو ربط بہت ضروری ہے، ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ، ازبکستان کو براستہ افغانستان، پاکستان سے جوڑیگا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تاشقند میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان اور وسطی و جنوبی ایشیا رابطہ کانفرنس کے حوالے سے ویڈیو بیان میں کہاکہ تاشقند میں وسطی و جنوبی ایشیائی رابطہ کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے،جس میں وزیر اعظم پاکستان شرکت کر رہے ہیں، وزیر اعظم عمران خان اس کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اظہارِ خیال کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اگر ہمارے خطے نے معاشی و اقتصادی طور پر آگے بڑھنا ہے تو ربط بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ازبکستان کے صدر اور وزیر خارجہ کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی اور میری ملاقات ہوئی اس میں ہم نے ربط کی اہمیت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانس افغان ریلوے پراجیکٹ، ازبکستان کو براستہ افغانستان، پاکستان سے جوڑیگا اس حوالے سے بھی ہمارا تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،نقشوں کا تبادلہ ہوا، اور ہم نے پورے روٹ کا جائزہ لیا،اس منصوبے میں دقت محض افغانستان کی صورتحال کے باعث آ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر افغانستان کی صورتحال میں بہتری آتی ہے تو ہم اس منصوبے پر آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں، پاکستان اس منصوبے کی فزیبیلٹی کیلئے ورلڈ بنک کے ساتھ پہلے سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم گوادر کو ڈویلپ کر رہے ہیں – ہماری بندرگاہیں (وہ گوادر ہو یا پورٹ قاسم) لینڈ لاک وسطی ایشیا اور افغانستان کو سمندر تک رسائی کا مختصر ترین راستہ فراہم کرتی ہیں جس سے ان ممالک کی تجارت کو فروغ ملے گا،اس طرح خطے میں گوادر پورٹ، اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے، اس Connectivity سے خطے میں ایک خوشگوار تبدیلی ممکن ہے اور پاکستان اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے،اس کانفرنس کے موقع پر ہماری دو اہم نشستیں بھی ہوں گی، افغانستان کے صدر سے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال ہو گا، یورپی یونین کے اعلی نمائندے جوزف بوریل سے بھی ملاقات ہو گی اور افغانستان زیر بحث رہے گا۔انہوں نے کہاکہ ابھی میری ایمبیسڈر زلمے خلیل زاد سے بھی اسی موضوع پر گفتگو ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں