ہمارے دوست لبیک والوں کو بھی مارو گے، بلوچوں کو، پشتونوں کو بھی مارو گے، ان کے منہ کو خون لگ گیا ہے، کشمیر میں حالات یہاں تک پہنچے کیوں، خدا اس ملک پر رحم کرے، محمود اچکزئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمارے دوست لبیک والوں کو بھی مارو گے، بلوچوں کو بھی مارو گے، پشتونوں کو بھی مارو گے، ان کے منہ کو خون لگ گیا ہے، کشمیر میں یہاں تک حالت پہنچی کیوں، میں نے حافظ بھائی سے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ آخر نوبت یہاں تک پہنچی ہی کیوں؟ کشمیریوں جیسے لوگ… دیگر لوگوں کے بارے میں تو یہ تاثر ہو سکتا ہے کہ وہ بندوق کے دھنی، دہشت گرد یا مار دھاڑ کرنے والے ہیں، لیکن کشمیری تو بڑے شریف النفس لوگ تھے۔ وہ اس نہج تک کیسے پہنچے کہ آپ کو ان کے خلاف، یا انہیں آپ کے خلاف اتنا سخت موقف اپنانا پڑا؟ ہم سے جو بن پڑا، اور ہم جو بھی امداد یا تعاون کر سکے، وہ ہم آپ کے ساتھ بھی کریں گے اور ہر اس شخص کے ساتھ بھی جو اس کارِ خیر میں آگے بڑھے گا۔ ویسے ہماری خواہش تھی کہ ہم خود جا کر کمیٹی والوں سے سنیں کہ اصل ماجرا کیا ہے، جسے انگریزی میں کہتے ہیں ‘From the horse’s mouth’۔ اللہ کرے… خدا اس ملک پر رحم کرے۔ لیکن رحم کے لیے بھی ایک خاص ماحول درکار ہوتا ہے، جس کے لیے ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے۔ شہباز صاحب سے لے کر جرنیلوں تک، اور جرنیلوں سے لے کر حافظ بھائی اور مجھ تک، ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے۔ ہمیں سچی توبہ کر کے اور اللہ کا نام لے کر (بسم اللہ کر کے) اس ملک کو ان بلاو¿ں سے نجات دلانی ہوگی، ورنہ خدانخواستہ ہماری بدعملیاں ہمیں لے ڈوبیں گی۔


