بوٹ پالش کرنیوالے نوابوں سے پشتون ہونیکا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں،نور محمد دمڑ
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء صوبائی وزیر پی ایچ ای/ واسا حاجی نورمحمد خان دمڑنے کہاکہ انگریز کی غلامی اور بوٹ پالش کرنے والے نوابوں سے ہمیں پشتون ہونے کی سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے ہیں نام نہاد پشتون قوم پرست جماعت کے جلسوں میں موسیٰ خیل، ژوب، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، دکی اور سنجاوی، زیارت کے عوام کی عدم شرکت نے یہ ثابت کردیا کہ پشتون قوم نے ان عزمائے ہوئے لوگوں کو دوبارہ نہیں عزماتے ہے سنجاوی کے جلسے میں پشتون بیلٹ کے تمام اضلاع سے لوگوں کو لانے کے باؤجود بہ مشکل پانچ سو سے ایک ہزار افراد کو اکھٹا نہیں کرسکے اور یہ ثابت کردیا کہ پشتون قوم کومزید دوغلے پن اور جھوٹے نعروں سے نہیں ورغلایا جاسکتا ہے ہرنائی، سنجاوی، زیارت کے عوام کی نام نہاد پشتون قوم پرست جماعت کے جلسے میں عدم شرکت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں سنجاوی کے جلسے میں عوام کی عدم شرکت اور ناکامی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر نام نہاد انگریز کے غلامی کرنے والے کا سہ، انگریزوں کی چمہ گری اور بوٹ پالش کرنے والے نام نہاد نواب نے بوکھلاہٹ میں سنجاوی کے جلسے میں انتہائی غیر مہذہب الفاظ استعمال کئے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے انہوں نے کہاکہ پشتون قوم نے بار بار ان نام نہاد قوم پرست جماعت کو نوابوں، سرداروں کو عزمایا لیکن انہوں نے پشتون قوم کیلئے کچھ نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ایک جانب پنجابی استعمار کے خلاف تقریریں کرتے تکتے نہیں دوسری جانب نواز شریف کو شیرشاہ سوری کا خطاب دے رہے ہیں بلکہ یہاں تک کہاکہ اگر کوئی پشتون میاں نواز شریف کا ساتھ نہیں دیتا وہ پشتون بغیر ت ہے اور خود میاں نواز شریف کے گود میں بیٹھے ہوئے ہے دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خلاف تقریریں کرتے ہے اور دوسری جانب مولانا فضل الراحمن کے ساتھ ہے اور مولانا فضل الراحمن نے کھل کر طالبان کی حمایت کااعلان کیا ہے انہوں نے کہاکہ اب پشتون قوم باشعور ہوچکی ہے اور انکا اصل چہرہ قوم کے سامنے عیاں ہوچکی ہے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ کئی دیہائیوں سے پشتون قوم کو مختلف جھوٹے نعروں سیورورغلایا جارہا تھا لیکن جب اب قوم باشعور ہوچکی ہے اور قوم نے انہیں ایک بار25 جولائی2018 ء کو مستردکردیا انہوں نے کہاکہ اب ان نام نہاد پشتون قوم پرست جماعت شہید عثمان خان کاکڑ کی شہادت پر اپنی سیاست دکانداری چمکانے اور عوام میں کھوئی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کررہے لیکن پشتون قوم نے انکی سیاسی دکانداری کو مسترد کردیا ہے صوبائی وزیر نے کہاکہ انگریزوں کے کپڑے دھونے والا کہتا ہے کہ جن پر ایف آئی آر درج ہے انہیں عوام کا نمائندہ سلیکٹ کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اس نام نہاد کو یادہانی کی جاتی ہے کہ جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی عدالت نے باعزت بری کردیا انہوں نے کہاکہ کسی کے ذاتی معاملت میں مداخلت سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ یہ نواب نہیں بلکہ شرپسند ہے انہوں نے کہاکہ جن کے سربراہ نے گلستان میں سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو موت کو بے دردی قتل کیا گیا اور ان پر کئی مقدمات درج ہے اس پر کیوں چھپ ہوں صوبائی وزیر نے کہاکہ سنجاوی کی جلسے سے ان نام نہاد نوابوں، سرداروں کی حقیقت کھل کر عوام کے سامنے آگئی ہے اور محب وطن پشتون قوم نے انہیں مکمل طورپر مسترد کردیا ہے صوبائی وزیر نے کہاکہ سنجاوی کے جلسے کیلئے ایک ماہ مسلسل تیاری کرنے کے باؤجود اور مختلف پشتون اضلاع سے لوگوں کو لانے کے باوجود بھی پانچ سو سے ایک ہزار لوگوں کو بھی جلسے میں شریک نہ کرسکے انہوں نے کہاکہ اتنے لوگ تو جب ہم اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ کرتے ہے تو ہر یونین کونسل ہمارے کارکن ہمارے استقبال کیلئے نکلتے ہے۔


