ماشکیل میں طوفانی ہواﺅں سے 40 بجلی کے کھمبے زمین بوس، شدید گرمی میں علاقہ بجلی سے محروم، پانی کی قلت، مواصلاتی نظام درہم

ماشکیل (رپورٹ: نصیر کبدانی) بلوچستان کا سرحدی علاقہ ماشکیل جو اپنے صحرائی محل وقوع اور شدید گرم موسم کی وجہ سے صوبے کے گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے، چند روز قبل آنے والی طوفانی ہواﺅں نے بجلی کی مین ٹرانسمیشن لائن کو شدید نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں تقریباً 40 بجلی کے کھمبے زمین بوس ہوگئے اور پورا علاقہ بجلی سے محروم ہوگیا، ماشکیل میں ان دنوں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے، صحرائی آب و ہوا، تیز دھوپ اور گرم موسم کے باعث دن کے اوقات میں معمولات زندگی شدید متاثر ہورہے ہیں، ایسے سخت موسمی حالات میں بجلی کی مسلسل بندش نے عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں پنکھے، ایئر کولر، پانی کی موٹریں، فریج اور دیگر ضروری برقی آلات بند پڑے ہیں۔ بزرگ، خواتین، بچے اور بیمار افراد شدید گرمی میں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، خوراک کے خراب ہونے اور مختلف موسمی بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں، صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوچکی ہے کیونکہ بجلی کی بندش کے باعث گزشتہ تین دنوں سے موبائل نیٹ ورک اور موبائل ڈیٹا سروس بھی معطل ہے، نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے شہری اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ نہیں کر پا رہے تاجر کاروباری لین دین میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جبکہ ہنگامی طبی یا دیگر ضروری حالات میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ بھی ممکن نہیں رہا، مواصلاتی نظام کی بندش نے عوام کو عملی طور پر دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور چھوٹے کاروباری افراد بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں، ماشکیل پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ایک دور افتادہ صحرائی علاقہ ہے جہاں گرمی کی شدت دیگر علاقوں کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے، ایسے میں بجلی اور مواصلاتی نظام کی طویل بندش عوام کے لیے ناقابل برداشت صورتحال اختیار کرچکی ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان، کیسکو کے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ، منتخب عوامی نمائندوں اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گرے ہوئے بجلی کے کھمبوں کی فوری تنصیب، اضافی عملہ، مشینری اور وسائل فراہم کرکے ہنگامی بنیادوں پر بجلی بحال کی جائے تاکہ موبائل نیٹ ورک اور ڈیٹا سروس بھی بحال ہوسکے اور عوام کو اس شدید اذیت سے نجات ملے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں