ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے انقلاب آئیگا، میر سلیم کھوسہ
جعفرآباد: صوبائی وزیر ریونیو میر سلیم خان کھوسہ نے کہاہے کہ ماضی کے مقابلے میں جام حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھادیاہے تین سالا دور تابناک مستقبل کاضامن ہے منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں انقلاب آئے گا ڈولپمنٹ کے حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی کی کارکردگی تسلی بخش ہے گزشتہ تین سالوں کے دوران جوڈولپمنٹ ہوء ہے وہ بلوچستان کی تاریخ میں کہیں دیکھنے میں نہیں آء اس کا کریڈٹ وزیراعلء بلوچستان جام کمال کوجاتاہے۔ ان خیالات کااظہار وزیر ریونیو بلوچستان میرسلیم احمد کھوسہ نے اپنی رہائش گاہ صحبت پور میں جعفرآباد کے صحافیوں کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ ان کاکہناتھاکہ کافی مشکلات اپوزیشن نے اس حکومت کے لیے کھڑے کیے ڈولپمنٹ کے حوالے سے پی ایس ڈی پی کو لیکر کورٹ چلے گئے کیس ڈلے ہوا پھر کورٹ نے فیصلہ بلوچستان آف گورئمنٹ کے حق میں دیدیا انکا کہناتھا کہ بلوچستان اس وقت ترقی کی جانب گامزن ہے ہرضلع سیکٹر کے اندر ایک میگاپروجیکٹ ضرور بن رہاہے صحبت پور سے کشمور اورحیردین سے آگے 20 کلومیٹر کام ہورہاہے جبکہ فیس ٹو میں 32 کلو میٹر کچھ دنوں بعد اسٹارٹ ہوجائے گا اس سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی ضروری نہیں کہ ہرشہرسے سی پیک گزرے نء سڑکیں بننے سے بھی فاصلے محدودہوجاتے ہیں اور منزل نزدیک ہوتی ہے جام کمال کی بے لوث قیادت اور وزن کی بدولت ڈولپمنٹ کے حوالے سے اربوں روپے کے کام ہورہے ہیں صوبے بھر میں اسپورٹس کمپلیکس تعلیمی ادارے صحت کے مراکز بن رہے ہیں تاکہ عوام کو سہولیات حاصل ہوں،کھیل تفریح کے مواقعوں سے نوجوان طبقہ بھی مستفید ہوگا ریزیڈنس کالج میڈیکل کالج نصیرآباد میں بننے جارہاہے ایگریکلچرل کمپلیکس یونیورسٹی لسبیلہ میں بن رہاہے آنے والے دنوں میں آپکو بلوچستان بہترین صورت میں نظرآئے گا بلوچستان کی آبادی اور زمینی فاصلوں کو مد نظررکھتے ہوئے نئے ضلع تحصیل بنیں گے اور سب تحصیل اپ گریڈ ہوں گے جس سے لوگوں کی زندگیاں بدل سکیں ایک سوال کے جواب میں انکاکہناتھا کہ نصیرآباد ڈویزن میں زرعی پانی کابحران ہے جس سے آباد کار طبقہ پریشانی میں مبتلہ ہے اس سلسلے میں وزیراعلء بلوچستان کے سامنے مسلہ رکھ دیاگیاہے وہ جلد وزیراعلء سندھ سے ملکر اس گھمبیر مسلے کاحل ضرور نکالیں گے کیونکہ جب تک بلوچستان حکومت کے پاس ریگولیٹ کنٹرول نہیں ہوگا یہ سلسلہ بتدریج چلتارہے گا کیونکہ اسکا مکمل کنٹرول سندھ گورنمنٹ کے پاس ہے ارسا میں پانی کے حوالے سے فیصلے کیے گئے تھے کہ وہ سکور رہے پانی جتنا بھی کم ہوگا وہ بلوچستان کے پانی کی کٹوتی نہیں کرے گا لیکن سندھ حکومت زیادتی کررہی ہے جلد وزیراعلء بلوچستان سندھ گورئمنٹ کے ساتھ ملکر مستقل حل نکالیں گے تاکہ یہ مسلہ جلد حل ہو کیونکہ نصیرآباد زرعی علاقہ ہے اس سے بیس لاکھ خاندانوں کا زریعہ معاش وابستہ ہے اس کا فیڈرل لیول پر بھی حل نکالیں گے تاکہ ملک صوبہ ترقی کی جانب گامزن ہواور ملک سرسبز ہو۔


