تفتان بارڈر پر قائم تجارتی گیٹ بازارچہ بند

تفتان:تفتان بارڈر پر قائم تجارتی گیٹ بازارچہ کو بند کردیا گیا اس سلسلے میں کسٹم کی جانب سے تاجروں کو نوٹس بھی دیا گیا جس سے تاجر برادری اور مزدوروں میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ہزاروں مزدوروں بے روزگار ہوگئے۔ سپرنٹنڈنٹ کسٹم تفتان ہاؤس کی جانب سے امپورٹر اور تاجروں کو دیئے نوٹس کے مطابق 30جولائی سے بازارچہ میں لوڈنگ اور ان لوڈنگ بند ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے ایک طرف وفاقی حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ پاک ایران بارڈر پر نئے تجارتی پوائنٹس کھولے جارہے ہیں دوسری جانب اپنے دعوؤں کے برعکس برسوں سے قائم تجارتی پوائنٹس بند کرکے پہلے سے غربت کی چکی میں پسے عوام کے واحد ذریعہ معاش کو بند کرکے سرحدی علاقے کے عوام سے سوکھی روٹی بھی چھینی جارہی ہیں کسٹم ہاوس کے ڈپٹی کلکٹر مصطفی ضمیر نے اپنے آفس میں آئی این پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسٹم ہاؤس کی جانب سے تاجروں کے لیے سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بازار چہ میں تاجروں کے مال موسمی حوالے سے بھی غیر محفوظ تھے اب این ایل سی میں ان کو تمام تر سہولیات ملیں گے انہوں نے کہ اس سلسلے میں تاجروں کے لیے امگریشن گیٹ پر کلیرنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیاہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی سی کسٹم مصطفی ضمیر نے کہا کہ تاجروں کو بازار چہ کے شفٹنگ کے سلسلے میں جو بھی خدشات یا مشکلات ہیں وہ آکر ہم سے شیئر کرے انشاللہ ان کے تمام خدشات اور مشکلات دور کیا جائیگا دوسری جانب پاک ایران سرحد پر فینسنگ کے باعث غیر روایتی راستے پہلے سے بند ہوچکے اب سالوں سے قائم قانونی راستوں کو بھی بند کرنے سے کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی اس اقدام سے بے روزگاری بڑھے گی اور کاروبار کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی کاروباری و عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا اس فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ لوگوں کا روزگار متاثر نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں