مزید افغان مہاجرین کی میزبانی کے متحمل نہیں ہو سکتے، پاکستان

ا اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہاامید ہے ٹرائیکا پلس سے بین الافغان ڈائیلاگ آگے بڑھے گا، پاکستان مزید افغان مہاجرین کی میزبانی کا متحمل نہیں ہو سکتا، افغانستان کے مسئلے کا واحد حل سیاسی حل ہے اور اس مسئلے کو حل باالاخرافغانوں نے ہی کرنا ہے،پاکستان کو افغانستان میں تیزی سے ابتر ہوتی صورتحال پرتحفظات ہیں اوربھارت نے ہمیشہ افغانستان میں اسپائلر کا کردارادا کیا، افغان سفیر کی صاحبزادی کا بیان ہماری تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جمعہ کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ افغانستان سے امریکا کے ذمہ دارانہ انخلا کی بات کی، پاکستان کو افغانستان میں تیزی سے ابترہوتی صورتحال پرتحفظات ہیں، 2001 سے اب تک ہم نے 80 ہزارسے زائد جانوں کا نقصان اٹھایا، کوئی بھی ملک ہم سے زیادہ افغانستان میں قیام امن کا حامی نہیں، لیکن بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں اسپائلرکا کردارادا کیا۔ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث پاکستان میں مہاجرین کا سیلاب پاکستان آئے گا۔ پاکستان مزید افغان مہاجرین کی میزبانی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ نے بھارت کی منظم ریاستی پاکستان مخالف پالیسی کوبے نقاب کیا۔ ہم شروع سے افغانستان میں امن کے قیام کے حامی ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغانستان کے عسکری حل نہ ہونے کی بات کی۔ افغانستان کے مسئلے کا واحد حل سیاسی حل ہی ہے۔ باالاخرافغانوں نے ہی اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔ افغان فریقین کے درمیان بات چیت کے لیے ایک میکنزم موجود ہے۔ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ افغانستان امن کانفرنس ملتوی ہوئی تھی معطل نہیں۔ اس کانفرنس کی نئی تاریخوں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ افغان سفیر کی صاحبزادی کا بیان ہماری تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تحقیقات مکمل کرنے کے کیے افغان سفیرکی بیٹی کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے انسانی حقوق کمشن کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، وفد نے کشمیری مہاجرین، سول سوسائٹی سے بھی ملاقاتیں کیں، وفد او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اہنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا۔ عالمی برادری، او آئی سی اوراقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔عراق کے وزیر خارجہ ڈاکٹر فواد حسین نے پاکستان کا دورہ کیا، ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، علاقائی مسائل، افغانستان کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، عراق کا دورہ کرنے والے پاکستانی زایرین کے ویزا معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اورپاکستان نے نجف اور کربلا میں قونصل خانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔افغانستان پر ایمبیسڈر محمد صادق ٹرائیکا پلس ملاقات اور علاقائی اجلاس میں شرکت کے لیے دوحہ گئے، ہم نے افغان سرزمین کے ہاکستان کے خلاف استعمال، را اور این ڈی ایس نیکسس پر ڈوزئیر پیش کیا ہے۔ اس ڈوزئیر کا عالمی برادری کے ساتھ تبادلہ کیا گیا تھا، ہم اس ڈوزئیر کو اقوام متحدہ میں بھی پیش کریں گے۔ 11 اگست کو دوحہ میں ٹراییکا پلس ا جلاس منعقد ہوا امید ہے ٹرائیکا پلس سے بین الافغان ڈائیلاگ آگے بڑھے گا، اجلاس میں پاکستان، امریکا، چین اور روسی فیڈریشن کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ افغانستان پر ایک علاقائی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ترجمان دفترخارجہ تحریک طالبان پاکستان ایک کالعدم جماعت ہے ہم افغان حکومت کو کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے خلاف ایکشن لیا جا ئے، بھارت نے ہمیشہ بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام تراشی کی بھارت اس قسم کے الزامات اور واقعات کو فالس فلیگ آپریشن کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ داسو اور جوہر ٹاون واقعات کی مکمل تحقیقات کے بعد بھارت کے ملوث ہونے کی بات کی گئی
پاکستان نے کبھی واقعہ کے فوری بعد کسی پر الزام نہیں لگایا ہمارے پاس جوہر ٹاون اور داسو دہشت گردی کی مکمل منی ٹریل اور ریکارڈ موجود ہے ہم کل قوتی تعلقات کی بجا ئے طویل المدت اور کثیر الجہتی شراکت داری پر یقین رکھتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں