مزدوروں کے قوانین پر عمل کیلئے عجلت سے کام لینا روایت بن گئی،بلوچستان لیبر فیڈریشن

کوئٹہ: وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ملک میں رائج کم سے کم اجرت کے قانون 1961کے ترمیمی آرڈیننس1980 کے آرٹیکل 2 کے تحت روزانہ 8گھنٹے فرائص سرانجام دینے والے عارضی، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو 20 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے دریں اثناء بلوچستان لیبر فیڈریشن کے صدر خان زمان چیئر مین بشیر احمد سیکرٹری جنرل قاسم خان عبدالمعروف آزادحاجی عزیز شاہوانی عابد بٹ نورالدین بگٹی محمد عمر جتک سیف اللہ ترین عارف نچاری فضل محمد منظور آغا ملک وحید کاسی دین محمد محمد حسنی، ظفر خان رند اور دیگر مزدور رہنماؤں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے تمام اداروں اور صنعتی کارکنوں کیلئے کم سے کم اجرت بیس ہزار روہے ادا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ مہنگائی کے اس طوفان میں بلوچستان کے مختلف اداروں اور صنعتوں میں روزانہ اجرت کرنیوالے عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو ماہانہ بیس ہزار روہے ادائیگی یقینی ہومزدور رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے اداروں میں کھبی بھی وفاق طرز پر کم سے کم اجرت کے قانون پر عمل نہیں کیاگیا صوبے کے محکمہ محنت و افرادی قوت کی جانب سے ہمیشہ اس حوالے سے قانون سازی میں عجلت سے کام لیا گیا مختلف اتھارٹیز اور اداروں میں کام کرنیوالے عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مکمل ادائیگی نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ وزیراعلی بلوچستان محکمہ محنت و افراد قوت بلوچستان کی نا اہلی کا نوٹس لیں،اور سندھ پنجاب کے پی کے کی طرح بلوچستان میں لیبر قوانین کے حوالے اقدامات اٹھائے جائیں بلوچستان کا محنت کش طبقہ و مزدور قانون سازی میں سست روی سے اپنی حقیقی مراعات سے محروم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں