گودار انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو نیشنل پارٹی احتجاج تحریک کو وسعت دیگی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پر امن احتجاج پر تشدد سے پارٹی رہنماء اشرف حسین سمیت کئی کارکنان زخمی ہوئے ہیں، صوبائی حکومت گوادر کے عوام کے معاشی قتل عام کی مرتکب ہورہی ہے، اگر گودار انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو نیشنل پارٹی احتجاج تحریک کو وسعت دیگی۔یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو ممبر ورکنگ کمیٹی انیل مسیح بلوچ ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری نعیم بنگلزئی مختیار چھلگری سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ گودار کے عوام گزشتہ کئی دنوں سے پانی اور بجلی کے لیے عوامی احتجاج کررہے ہیں نیشنل پارٹی نے اس قبل پانی اور بجلی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اور منگل کو نیشنل پارٹی گودار نے پانی اور بجلی کے بحران کے خلاف پرامن شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دی اس موقع پر پارٹی کی قیادت اور کارکنوں نے پرامن انداز سے شہر کا دورہ کرکے ہڑتال کا معائنہ کررہے تھے کہ گودار انتظامیہ نے اسسٹنٹ کمشنر گودار و اسسٹنٹ کمشنر پسنی کی قیادت میں انتظامی دہشت گردی کی مثال قائم کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کی قیادت اور کارکنوں پر شدید تشدد کیا جس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اشرف حسین سمیت دیگر کارکنان شدید زخمی ہوئے اور پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی منفی کوشش کی گئی اس عمل میں صوبائی حکومت کی منشاء شامل تھی کیونکہ صوبائی حکومت خود گودار کے عوام کی معاشی قتل عام کی مرتکب ہورہی ہے تو وہ عوامی جماعت کو بھی روکنے کی کوشش کرنے میں مصروف ہے جسکی نیشنل پارٹی پر زور مذمت کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ اگر گودار انتظامیہ کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو نیشنل پارٹی احتجاجی تحریک کو وسعت دیگی اور عوام کو منظم کر کے حکومت کا اصل چہرہ عیاں کریگی انہوں نے کہا کہ گودار اپنی جغرافیائی اعتبار سے دنیا میں منفرد و ممتاز حیثیت رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے گودار کو حکمران صرف ہاٹ کیک کے طور اپنے مفادات و عزائم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور گودار اور اس کے عوام کی سیاسی سماجی معاشی اور معاشرتی زندگیوں کو شکنجے میں جکڑ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 2018 میں انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے ایسی حکومت کو لایا گیا جس کو نا بلوچستان اور نہ اس کے عوام سے سروکار ہے حکومت اپنے آئینی اختیارات کو بھی سرنڈر کرنے میں مصروف عمل ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے کی پالیسی وہ یا بلوچستان حکومت کی سمندری حدود کے آئینی اختیارات کو بالائے طاق رکھ کر چائینز ٹرالر کو شکار کی اجازت ہوبلوچستان حکومت نے اس سلسلے میں کسی قسم کا احتجاج ریکارڈ نہیں کرایانیشنل پارٹی نے اس منفی اقدام کے خلاف گودار سمیت بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کیا اور ایوان بالا کے فلور کو بھی پارٹی سینیٹرز نے بھرپور استعمال کیااور اس کو ناکام بنایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں