افغان پرچم کی تبدیلی کے اثرات
تحریر: راحت ملک
20.اگست تک قانونی پہلو سے افغانستان میں کسی دوسرے فریق کم از کم طالبان کواختیارات کی منتقلی نہیں ہوئی تھی جبکہ کابل میں افغان طالبان کے داخلے کے بعد وہاں کی قانونا مجاز حکومت تحلیل ہوگئی تھی، سو لمحہ ٍ موجود میں افغانستان ایسا ملک ہے جہاں کوئی قانونی حکومت موجود نہیں۔ طالبان صدارتی محل سمیت تمام ریاستی مراکز پر قبضہ جماچکے ہیں۔افغان صدر جناب اشرف ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے 15اگست کو تاجکستان سمیت،عرب اور مغربی ذرائع ابلاغ ان کی تاجکستان چلے جانے اور وہاں موجود گی کی مصدقہ خبریں دے رہے تھے۔ لیکن دو روز بعد تاجک حکومت نے ان کی ترید کی اور بتایا کہ ان کا طیارہ تاجکستان کی فضائی حدود میں داخل ضرور ہوا تھا۔ مگر اسے وہاں اترنے کی اجازت نہیں ملی تھی، پھر یہ طیارہ کہاں چلا گیا تھا؟ کیونکہ 18اگست کی شام متحدہ عرب امارات نے سرکاری سطح پر باضاطہ اعلامیہ جاری کیا جس میں جناب اشرف غنی ان کے خاندان اور دیگر اہم حکومتی رفقاء کے دبئی پہنچنے کی تصدیق کی گئی۔
کیا 15سے18اگست تک جناب اشرف غنی کا طیارہ فضاء میں مسلسل محوئے پرواز رہا تھا؟ اس نے کسی ہوائی مستقر پر قیام نہیں کیا تھا؟ یو اے ای حکومت نے اس بارے کچھ نہیں بتایا۔یہ بتانا ضروری نہیں کہ اشرف غنی صاحب استعفے دیئے بغیر ملک سے چلیگئے ہیں گویا ابھی تک وہ "قانونی” طور پر اپنے منصب پر موجود ہیں یہ الگ بات اب وہ منصب اپنی جگہ پر موجود نہیں رہا کہ تاحال افغانستان میں کوئی
” باضابطہ حکومت” موجود نہیں،افغان صدر کون ہے؟کابینہ موجود ہے یا نہیں،افغان آرمی کی قیادت کون کررہا ہے؟ یا وہ بھی چیف کے بغیر چل رہی ہے؟ ایس بھی تو نہیں کہ ماضی کی طرح حالیہ صورتحال کے دوران کسی بھی جانب سے افغان آرمی تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہوا ہو۔ واضح رہے میں نے اعلان کا لفظ لکھا ہے ”فرمان” یا "حکم” نہیں۔جناب اشرف غنی کی روانگی کے بعد بھی جناب عبداللہ عبداللہ ملک چیف ایگزیکٹو جو ان کے بعد تمام اختیارات کے مالک تھے ملک میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اس رابطہ کونسل کے رکن ہیں جو افغانستان میں نئی حکومت سازی کے لئے صلاح ومشورے کررہی ہے افغان طالبان کی نمائندگی کرنے والے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے رابطہ کونسل کے ارکان سے ملاقات کی ہے اور نئی افغان حکومت کی تشکیل اس کی نوعیت یا ترکیبی اجراء پر بات چیت کی ہے لیکن دوسری طرف افغان طالبان نے تمام معاملات خود سنبھال رکھے ہیں نظم ونسق اور دیگر معاملات وہی چلا رہے ہیں لیکن کسی” قانونی اختیار” کے بغیر.. کیونکہ طالبان یا کسی نے بھی ملک کا اقتدار واختیار سنبھالنے کے لیے قانونی و رسمی کارروائی یعنی حلف نہیں اٹھایا۔جس سے طیکیا جاسکے کہ 15 اگست کے بعد سے افغانستان کا اقتدار کس کے پاس ہے یا منتقل ہوگیا ہے۔
موجود سیال سیاسی صورتحال انارکزم جیسی سیاسی اصطلاح میں واضح ہوسکتی ہے لیکن ہمارے ہاں اس کے بہت منفی معنی رائج ہیں درحالانکہ یہ ایسا سیاسی مرحلہ ہوتا ہے جب کسی ملک کے عوام آگے بڑھ کر اختیارات اپنے ہاتھ میں لیلیتے ہیں مروج انتظامی ڈھانچہ مسمار کردیا جاتا ہے یہ انقلاب برپا کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے جو سابقہ نظم ونسق ختم کرتا ہے۔ جہاں سے نئی انقلابی تعمیر شروع ہوتی ہے۔ افغانستان 15اگست سے تا حال انارکیت کے دورانیے کو طے کررہا ہے رابطہ کونسل کے رکن اور افغانستان کے چیف ایگزیکٹو جناب عبداللہ عبداللہ عملاً اپنے فرائض انجام دینے کے برعکس، اختیارات ی کسی دوسرے فریق کو منتقلی کے لیے یا قانونی انتظامیہ کی بحالی اور اسکیخدوکال وضح کرنے میں مصروف ہیں قانونی طور پر وہ اب بھی چیف ایگزیکٹو ہیں لیکن عملاً فعال یا موثر نہیں،
دریں حالات نئی حکومت کے اجزاء ترکیبی کی تشکیل اور جامع حکومت کے قیام پر فریقین میں اتفاق رائے قائم کرنے کا عمل جاری ہے جب ہم فریقین کا لفظ استعمال کرتیاور طالبان بھی ادے دھراتے ہیں تو منطقی اعتبار سے مسلمہ ہوجاتا ہے کہ طالبان نے افغانستان فتح نہیں کیا انہوں غلبہ پایا ہے لیکن مقتدر نہیں ہویے اد منزل تک پہنچے میں انہیں مزید مراحل طے کرنے ہیں جس کا سلسلہ جاری ہے۔ متحارب فریقین نہ صرف نئی حکومت کی جامعیت اور شکل پر بحث کررہے ہیں بلکہ وہ حکومتی نظم و نسق پر بھی جامعیت کے لیے کوشاں ہیں۔تو کیا مان لیا جائے کہ طالبان نے افغانستان کا اوتدار اعلیٰ حاصل کرلیا ہے؟ یہ الگ بحث ہے اس صورتحال میں بھی طالبان نے اپنی بندوق کی طاقت پر عملاً امور مملکت سنبھال لیے ہیں!!! اہم سوال یہ ہے کہ کیا رابطہ کونسل اور طالبان ایک جامع حکومت کی تشکیل اور مسقتبل میں افغانستان کے ریستی نظم و نسق کے کسی فارمولے پر اتفاق رائے کرلیں گے؟ ایسا نہ (خدانخواستہ) تو حالات کس سمت جائینگے؟ دم اتفاق افغانستان میں تصادم لاے گا ممکن ہے طالبان بزور اپنی واحد حکومت قائم کر لیں تاہم اسطرح انہیں عالمی رایے عامہ اور سیاسی مراکز کی قبولیت ملنا بہت مشکل ہوگا یہ مرحلہ انکے مخالفین کو عالمی حمایت دلاے گا اور افغانستان ماضی کی طرح پھر سے برادرکشی میں داخل ہوجایے مذاکرات کے فریقین کو بلخصوص طالبان کو لچکدار رویہ اپنانا ہوگا دنیا انکے ماضی کے تناظر میں محض لفاظی کو تسلیم نہیں کرے گی۔ طالبان کے متشددانہ رحجانات کا اندازہ قومی پرچم کے متعلق انکے عمل سے ہورا ہے انہوں نے افغانستان کے موجودہ سرکاری پرچم کو لپیٹ دیا ہے صدارتی محل پر اس وقت کوئی پرچم سربلند نہیں اور اگر ہو بھی تو وہ شاید موجودہ سرکاری پرچم نہیں ہوگا، قومی پرچم کی تبدیل یا تنسیخ کا مطلب موجودہ افغان آئین کی تنسیخ ہے۔جس کے خلاف افغانستان کے کئی شہری علاقوں میں عوامی احتجاج شروع ہو گیاہے احتجاج منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی گئی اور متعدد افغان شہری جاں بحق ہوچکے ہیں،گمان ہے کہ فائرنگ پرچم بدلنے والے اور اقتدار کے ممکنہ مختار بننے والے افراد نے ہ کی ہوگی پرچم کی تبدیلی اور اس کی مزاحمت بہت بڑے علامتی عمل ہیں، عوام کے مزاج کی عکاس ہیں ہے سوال یہ ہے کہ نئی حکومت موجودہ افغان آئین کے تحت قائم ہوگی یا طالبان اس کے بر عکس اپنی امارت اسلامی کے دستور کو رائج کرنا چاھیں گے؟ پرچم بدل کر انہوں نے طور پر موجودہ آئین تسلیم نہ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جبکہ رابطہ کونسل نے پرچم بدلنے پر احتجاج نہیں کیا،تو یہ سمجھنا درست ہوگا کہ جناب عبداللہ عبداللہ اور رابطہ کونسل بھی موجودہ آئین کی تنسیخ پر آمادہ ہیں؟ کابل میں داخل ہوتے لمحوں طالبان نے عبوری حکومت کے قیام کی تجویز یکسررد کردی تھی۔چنانچہ اس کے رد عمل میں رابطہ کونسل قائم ہوئی تھی، بعد کے واقعات گو کہ اہم ہیں لیکن جوہری طور پر وہ افغانستان کے حالات اور مستقبل کے متعلق ٹھوص یقین دہانی نہیں کراتے۔
طالبان اگر وسیع البنیاد یا جامع حکومت پر متفق نہیں ہوتے(حالانکہ وہ اس مقصد کے لئے مذاکرات کررہے ہیں)تو دیگر فریقین،بالخصوص رابطہ کونسل کا رد عمل کیا ہوگا؟جو غیر موثر سہی لیکن عالمی قانون اور سیاسی اصطلاح میں اس وقت افغانستان کی جائز قانونی اتھارٹی کی وارث ہے۔ ان کا رویہ افغانستان میں استحکام اور پرامن انتقال اقتدار بارے عالمی،علاقائی اور خود افغانستان کے اندرونی رجحانات و تقاضوں کی تشفی کرے گا،رابطہ کونسل کے رد عمل کا انحصار حتمی طور پر طالبان کے مزاج اور رویے میں اعتدال و توازن کے لفظی دعوؤں کی بجاے عمل سے طے پاے گا۔
طالبان نیامارت اسلامی کے اپنے روایتی موقف میں لچک پیدا نہ کی تو کابل میں جائز طور پر حکمرانی کے لئے اہل نہیں ہونگے لیکن یہی انحراف (لچک دار رویہ)ان کے لئے ایک المیہ بنے گا۔ سیاسی زوال کے آغاز کا المیہ۔
ماضی کی حکمرانی سے انحراف یا بدلاؤطالبان کے لیے اپنے بانی امیر المومنین کے تصورات خیالات اور تعبیر کو ترک کرنے کے مترادف ہوگا تو پہلا سوال جو ان کی اندرونی صفوں سمیت ان کے پر جوش کڑ دائیں بازو کے حامیوں کی جانب سے اٹھے گا۔کہ طالبان نے ملا محمد عمر کے لائحہ عمل انکی شرعی سیاسی تعبیر سے اب فاصلہ دکھا کر دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے یا موقع پرستی کا؟ اور کیا اس صورت وہ اپنے حلقہ اثر پر اپنی طاقت و توانائی بحال رکھ پائیں گے؟ شاید یہ مشکل تر مرحلہ ہو۔ طالبان کی سوچ میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں جو دوحہ مذاکرات کے دوران سامنے آیے اور وہ مثبت بھی ہیں۔ یعنی طالبان نے القاعدہ سمیت کسی بھی مسل تنظیم کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے اگر اس طرز کا فیصلہ9/11 کے بعد کر لیا جاتا تو یقینا افغانستان وخطے کو پہنچنے والے جانی ومالی نقصان سے بچنا ممکن تھا، تب طالبان کی حکومت برقرار بھی رہتی اور اس میں کسی دوسرے کی شراکت کا مطالبہ بھی نہ ہوتا۔موجودہ صورتحال کابل میں ایک جامع،معتدل مزاج حکومت کے قیام پر مجبور کرتی ہے جو طالبان کے داخلی،ذہنی فکری میلانات میں بنیادی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے، جس کے بغیر افغانستان کے دیگر سیاسی نسلی لسانی مذھبی قومیتی فریقین کی شمولیت کا امکان محدود ہوگا،
مستحکم افغانستان جامع حکومت کے بغیر ممکن نہیں تو اس کے معنی موجودہ افغان آئین کو قبول کرنے میں پوشیدہ ہیں۔ہاں اس میں جمہوری تائید سے ترامیم ہوسکتی ہیں۔
افغان آئین سے ماوراء جو کچھ بھی ہوگا وہ سیاسی مصالحت اور اقتدار کی ہوس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا چاھے فریقین مصالحت کریں یا غیر لچکداری اپنائیں البتہ یہی آئین افغانستان کو آزاد خود مختار جمہوری مملکت کے تناظر میں خطے اور عالمی منظر نامے میں قبولیت دلایے گا یا اسے دنیا بھر کے لیے ناخوشگوار بنانیمیں فیصلہ کن ثابت ہوگا،موجودہ افغان پرچم لپیٹ کر افغان طالبان نے اپنے رویئے میں مثبت تبدلی کے دعوؤں اور وعدں پر بحال ہوتے مہین سے اعتبار کو بھی عجلت میں گزند پہچانی ہے۔مناسب ہوتا کہ وہ قانونی سطح پر حکمرانی حاصل کر نے کے لئے جاری مباحثے میں اتفاق رائے کے بعد پرچم تبدیل کر تے تو ان کے نعروں اور دعوؤں پر زیادہ پر اعتماد بھروسہ ممکن ہوتا،سردست طالبان ایک بپھری ہوئی قوت ہیں جن کے پاس امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کا فراہم کردہ جدید اسلحہ بھی ہے جو ان کی طاقت کا غماز ہے۔ان کا ماضی غیر مصالحانہ شدت پسندی کا آئینہ ہے تو سوچ شعور و تصورات میں منتشر الخیالی ظاہر کرنے والے انکے اقدامات افغانستان میں امن،سلامتی واستحکام کے امکانات روشن نہیں کررہے چنانچہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کے ساتھ معاھدے کے بغیر وہ افغانستان پر قابض ہوسکتے تھے؟ اور کیا امریکی تعاون ومدد کے بغیر ان کی کابل تک رسائی ممکن تھی؟ ان کے جواب ناگوار سہی۔ بہر حال نفی میں ہیں اور کیا امریکہ کے قومی مفادات جنوبی اور وسطی ایشیاء کے سنگم افغانستان میں امن و سلامتی یا علاقائی استحکام کے ساتھ وابستہ ہیں؟ میرا جواب تو ہے نفی میں ہے۔
تو پھر خیر خواھی اور عمدہ نیک خواہشات کے باوجود میں رواں سال صورتحال میں افغانستان میں امن و آتشی کی توقع کیسے کروں!!!!
حالانکہ افغانستان سمیت خطے تمام کے انسان دوست اسے ایک پرامن ترقی کرتا خوشحال ملک دیکھنا پسند کرتے ہیں لیکن ہماری خوش امیدیاں کب پوری ہوئی ہیں!!!!


